تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 455 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 455

تاریخ احمدیت جلد ۳ 447 اخبار " الفضل " اور "پیغام صلح " کا جراء مین صاحب تھے اور مینجر مرزا عبد الغفور بیگ صاحب - طابع و ناشر کے فرائض حضرت صاحبزادہ صاحب بنفس نفیس سرانجام دیتے تھے۔الفضل کے پہلے پرچہ میں آپ نے جناب الہی میں نہایت دردمندانہ التجائیں اور دعائیں کیں کہ خدا کا نام اور اس کے فضلوں اور احسانوں پر بھروسہ رکھتے ہوئے اس سے نصرت و توفیق چاہتے ہوئے الفضل جاری کرتا ہوں۔میرے حقیقی مالک میرے متولی تجھے علم ہے کہ محض تیری رضا حاصل کرنے کے لئے اور تیرے دین کی خدمت کے ارادہ سے یہ کام میں نے شروع کیا ہے۔تیرے پاک رسول کے نام کے بلند کرنے اور تیرے مامور کی سچائیوں کو دنیا پر ظاہر کرنے کے لئے یہ ہمت میں نے کی ہے۔اے میرے موٹی اس مشت خاک نے ایک کام شروع کیا ہے اس میں برکت دے اور اسے کامیاب کر میں اندھیروں میں ہوں تو آپ ہی راستہ دکھا۔لوگوں کے دلوں میں الہام کر کہ وہ الفضل سے فائدہ اٹھا ئیں اور اس کے فیض لاکھوں نہیں کروڑوں پر وسیع کر اور آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے بھی اسے مفید بنا" - حضرت خلیفہ اول نے جب پہلا نمبر پڑھا تو آپ نے فرمایا ”پیغام صلح " بھی میں نے پڑھا ہے اور الفضل بھی مگر میاں شتان بینھما یعنی کجاوہ کجا یہ۔یہ تو ایک مبصر کی رائے تھی۔مگر ہر شخص مبصر نہیں ہوتا۔اس لئے چاروں طرف سے اس کی مخالفت کی آوازیں اٹھنے لگیں۔اور جماعت کے ایک مخصوص عصر نے تو شروع ہی سے جو آپ کا مخالف تھا ڈٹ کر مقابلہ کرنا شروع کر دیا۔خصوصاً ادارہ پیغام صلح" نے تو حد ہی کر دی۔مگر آپ نے اس کی چنداں پرواہ نہیں کی بلکہ اس مزاحمت کو نیک فال سمجھا اور خدائی بشارتوں کے ماتحت اپنا قدم اور آگے بڑھاتے چلے گئے۔چنانچہ آپ نے ۱۹۱۳ء میں شیخ فضل احمد صاحب بٹالوی کے نام خط لکھا کہ : الفضل چونکہ اصلاح کے لئے جاری ہوا ہے اور لوگوں کے ہاں میں ہاں ملانے کے لئے نہیں نکلا اس لئے اس کی اشاعت ابھی کم ہے احمدی تک مخالفت کرتے ہیں بعض جماعتوں نے بالکل نہیں خریدا۔الحمد للہ ہر ایک نیک تحریک کی مخالفت ہوتی ہے۔میں نے آج ہی خواب میں دیکھا کہ میں کسی شخص کو کہہ رہا ہوں۔کہ سب انبیاء اور اولیاء کی مخالفت ہوتی آئی ہے پھر میری کیوں نہ ہو۔پھر دیکھا کہ ایک ستارہ ٹوٹا ہے لیکن بجائے نیچے جانے کے اوپر کی طرف چلا گیا ہے "۔PA