تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 454
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ " 446 اخبار " الفضل " اور " پیغام صلح " کا اجراء لئے عرض کیا تو آپ نے لکھا۔جس قدر اخبار میں دلچسپی بڑھے گی خریدار خود بخود پیدا ہوں گے ہاں تائید الهی حسن نیست اخلاص اور ثواب کی ضرورت ہے۔زمیندار۔ہندوستان۔پیسہ میں اور کیا اعجاز ہے وہاں تو صرف دلچسپی ہے اور یہاں دعا نصرت الہیہ کی امید بل یقین تو تھا علی اللہ کام شروع کر دیں“۔JA الفضل کا انتظام مکمل ہو چکا تھا تو احمد یہ بلڈ نگس لاہور سے پیغام صلح سوسائٹی کا پر اسپکٹس ملاجس میں ”پیغام صلح" کے نام سے ایک اور اخبار جاری کرنے کا اعلان تھا۔تب آپ نے حضرت خلیفتہ المسیح کی خدمت میں عرض کیا کہ اگر مناسب ہو تو اخبار کو روک دیا جائے لیکن حضور نے اس پر ارشاد فرمایا۔" مبارک کچھ پرواہ نہ کریں وہ اور رنگ ہے یہ اور کیا لاہور میں اخبار بہت نہیں۔چنانچہ الفضل جاری کر دیا گیا۔الفضل کے لئے ابتدائی سرمایہ جن مبارک ہستیوں نے مہیا کیا۔وہ تین تھیں۔آپ کی حرم اول حضرت ام ناصر جنہوں نے اپنے دو زیور پیش کر دئے کہ ان کو فروخت کر دیا جائے آپ نے خود لاہور جا کر پونے پانچ سو روپیہ میں یہ زیور فروخت کئے۔چنانچہ خود ہی فرماتے ہیں ” خدا تعالیٰ نے میری بیوی کے دل میں اس طرح تحریک کی جس طرح خدیجہ کے دل میں رسول کریم اس کی مدد کی تحریک کی تھی اس حسن سلوک نے نہ صرف مجھے ہاتھ دئے جن سے میں دین کی خدمت کرنے کے قابل ہوا۔اور میرے لئے زندگی کا ایک نیا ورق الٹ دیا بلکہ ساری جماعت کی زندگی کے لئے بھی بہت بڑا سبب پیدا کر دیا۔۔۔۔۔دوسرا مبارک وجود جس نے "الفضل" کے جسد میں روح پھونکی حضرت ام المومنین کا تھا آپ نے اپنی ایک زمین جو ایک ہزار میں بکی " الفضل " کے لئے عنایت فرمائی۔تیسرا قابل صد احترام وجود حضرت نواب محمد علی خان صاحب کا ہے جنہوں نے اس غرض کے لئے نقد رقم کے علاوہ زمین بھی دے دی جو تیرہ سو روپیہ میں فروخت ہوئی۔الفضل کے اجراء میں آپ کے معاون خصوصی اور سٹاف کے سرگرم رکن جنہوں نے اس سلسلہ میں سب سے زیادہ ہاتھ بٹایا حضرت قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل تھے ان کے علاوہ ادارہ میں حضرت صوفی غلام محمد صاحب اور حضرت ماسٹر عبدالرحیم صاحب نیر بھی تھے۔الفضل کا ابتدائی دفتر نواب محمد علی خان صاحب کے مکان کی نچلی منزل میں قائم ہوا۔12 اس کے اولین کاتب محمد -