تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 432 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 432

تاریخ احمدیت جلد ۳ 424 حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ کے سفر ہند و عرب بعد ازاں سنت رسول کے مطابق اسباب کی طرف توجہ کی۔پھر بتایا اس سفر میں مختلف مذاہب کے لوگوں اور دہریوں کے ساتھ میرے بڑے بڑے مباحثات ہوئے اور میں نے ہمیشہ سلسلہ احمدیہ کو پیش کیا۔اور خدا کے فضل سے مظفر و منصور ہوا۔آخر میں اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے ان الفاظ پر اپنی تقریر ختم کی۔” جیسا کہ پیشگوئیوں سے ظاہر ہے۔اسلام کی فتوحات کا زمانہ قریب ہے۔طوفان بے شک بہت بڑے جوش سے اٹھا ہے اور اس طوفان میں جہاز خطرے میں ہے اس لئے ضرورت ہے اس بات کی کہ سب لوگ اوپر آجادیں اور کام کریں۔۔۔یہ فارغ بیٹھنے کا وقت نہیں بلکہ کام کرنے کا وقت ہے۔اٹھو اٹھو اور کام کرو۔ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہت مبارک ہے"۔یہ سال بنگال میں احمدیت۔حضرت مولوی سید عبد الواحد صاحب کی بیعت تبلیغی نقطہ نگاہ سے ایک بھاری خوشخبری لانے کا موجب ہوا۔اور وہ اس طرح کہ برہمن بڑیہ بنگال کے ایک بہت بڑے عالم حضرت مولوی سید عبد الواحد صاحب (۱۸۵۳-۱۹۲۶) جو حضرت مولوی عبدالحی صاحب فرنگی محل کے مشہور تلامذہ میں سے تھے احمدیت میں داخل ہوئے۔اور ان کی تبلیغ سے ۱۹۲۱ء تک ڈیڑھ ہزار سے بھی زیادہ احمدی ہوئے۔حضرت مولوی صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعویٰ کا علم حکیم قریشی محمد حسین صاحب موجد مفرح عنبری سے ہوا۔جنہوں نے حضور کے کچھ حالات بھی بھجوائے اور ریویو آف ریلیجز" کے چند پرچے بھی۔ان پرچوں میں حضرت اقدس کے ایک مضمون پر جو نظر پڑی تو اس میں ایک خاص شان و عظمت محسوس ہوئی۔اور لفظ لفظ میں ایک روشنی ہی دکھائی دی دل نے گواہی دی کہ یہ چیز اہل باطل میں نہیں ہو سکتی۔اور اس ذوق و شوق میں حضرت اقدس کی کئی کتابیں قادیان سے منگوائیں اور ان کا بالا ستیاب مطالعہ کیا۔پھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے خط و کتابت شروع کر دی اور نہایت ادب سے اپنے شبہات حضور کی خدمت میں لکھے جن کا جواب حضور نے اپنے قلم سے براہین احمدیہ حصہ پنجم میں شائع فرما دیا۔اب صداقت منکشف ہو چکی تھی اس لئے آپ نے بعض خاص تلاندہ اور دوست وکیل دولت خاں صاحب کو حق کی تبلیغ شروع کر دی۔لوگوں میں اس کا چرچا ہوا تو وہ مباحثہ کے لئے اپنے علماء لے آئے مگر وہ آپ کے سامنے ٹھہر نہ سکے۔اس مناظرانہ جنگ و جدل کے بعد بھی آپ سلسلہ کی مزید تحقیق میں مصروف رہے۔اسی دوران میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وصال ہو گیا۔اگر چہ حق پوری طرح کھل چکا تھا اور شرح صدر بھی حاصل ہو گیا تھا مگر اس خیال سے کہ شاید ہندوستان کے علماء کے پاس احمدیت کے بطلان کی کوئی قطعی دلیل موجود ہو۔آپ اکابر علماء