تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 419 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 419

تاریخ احمد - جلد - 411 حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ کے سفر ہندو عرب ایک خواہش پیدا ہو گئی ہے۔کہ اس بات کی پوری طرح چھان بین کروں۔اس نے یہ بھی کہا کہ اگر چہ آپ کی باتوں کا جواب میں نہیں دے سکتا۔لیکن چونکہ پر انا اعتقاد جما ہوا ہے۔اس لئے پوری طرح تسلی نہیں ہوتی بس ایک امتحان بیرسٹری کا باقی ہے وہ دے کر جب چار پانچ ماہ کے بعد واپس ہند آؤں گا تو آپ سے ملوں گا۔اور قادیان آؤں گا کہ اس مسئلہ کی تصدیق کروں۔دوسرے ہندو نے کہا کہ وہ بھی بیرسٹری کے سب امتحان پاس کر چکا ہے صرف ٹرم باقی ہے کہا کہ آج تک میں نے اس رنگ میں کبھی مذہب پیش ہوتے نہیں دیکھا اور آج تک بغیر دلیل کے ہی ہمیں مذہب منوایا جاتا تھا۔یہ نیا طریق دیکھا ہے کہ آپ دلائل دیتے ہیں مگر وہ ایسا گستاخ تھا۔کہ بار بار یہ کہتا تھا۔کہ اگر خداتعالی میں کوئی طاقت ہے تو وہ اسے ہلاک کر دے نعوذ باللہ من ذالک۔ایک اور طالب علم نے میرا پتہ لکھ لیا۔کہ ولایت سے میں مذہب کے متعلق آپ سے خط و کتابت کروں گا۔میں نے سب سے وعدہ لیا ہے کہ ولایت میں خواجہ صاحب سے ملاقات کریں۔بعض نے بعض کتابیں بغرض مطالعہ بھی مانگی ہیں۔فالحمد لله على ذالک۔اس فائدہ کے علاوہ مجھے سب سے عظیم الشان فائدہ یہ ہوا کہ ان لوگون کی حالت دیکھ کر اسلام کی موجودہ حالت کا نقشہ کھنچ گیا۔ایسا خطرناک دہریہ میں نے کبھی نہ دیکھا جیسا ان لوگوں کو دیکھا سخت دلیر اور منہ پھٹ۔میں دیکھتا ہوں اسلام کی حالت کا جو پہلے درد تھا اس سے بہت زیادہ اب میں پاتا ہوں "۔ان تبلیغی مشاغل کے علاوہ آپ نے اس سفر میں بہت کثرت سے دعائیں کیں۔چنانچہ اس خط میں فرماتے ہیں۔"اگر چہ میری جسمانی صحت اس سفر میں بہت کمزور ہے لیکن روحانی طور سے بہت کچھ فائدہ ہوا ہے اور اس قدر دعاؤں کا موقعہ ملا ہے۔کہ پہلے کم اتفاق ہوا تھا اور مجھ سے جس قدر ہو سکا اپنے علاوہ حضور کے لئے۔حضور کے خاندان کے لئے۔اپنے سب خاندان کے لئے قادیان کے احباب کے لئے۔پھر کل جماعت احمدیہ کے لئے اور اسلام کے لئے بہت دعائیں کیں۔خصوصا تئیس تاریخ شام کو جہاز پر کچھ ایسی حالت ہوئی۔کہ مجھے یوں معلوم ہوا تھا کہ گویا تمام زمین و آسمان نور سے بھر گیا ہے۔اور دل میں اس قدر دعا کا جوش تھا کہ میں نے کبھی نہیں دیکھا اور پھر ساتھ دل میں یہ یقین ہو تا تھا اور اطمینان تھا کہ سب دعا ئیں قبول ہو رہی ہیں اور دعا سے طبیعت گھبراتی نہ تھی"۔غرض خدا کا پیغام پہنچاتے اور صبح و شام دعاؤں کے ماحول میں رہتے ہوئے آپ ۲۶ / اکتوبر کو سعید کی اور پورٹ سعید پہنچ گئے آپ نے اس شہر کی مذہبی اور تمدنی حالت کا مختصر جائزہ لیا۔ایک قہوہ خانہ میں وہاں کے شیخ الاسلام سے بھی ملنے کا موقعہ ملا۔عبد الحی عرب صاحب نے ان سے وفات مسیح کے مسئلہ پر گفتگو کی بہت سے لوگ یہ سن کر خوش ہوئے کہ وفات مسیح کا ثبوت دیا جا رہا ہے۔