تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 418 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 418

جلد ۳ 410 حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ کے سفر بند و عرب گئے۔حضرت خلیفتہ المسیح اول نے عبد ا ئی صاحب عرب کو (جو عراق کے رہنے والے تھے اور شیعوں میں سے احمدی ہوئے تھے) آپ کے ہمراہ بھیجا۔II اور حضرت شیخ عبد الرحمن صاحب قادیانی اور عبد العزیز صاحب آپ کی مشایعت کے لئے بمبئی تک گئے۔II جہاں حضرت نانا جان میر ناصر نواب صاحب بھی آپ کے مسفر ہونے کے لئے پہنچ گئے۔اور اس مقدس قافلہ کے تین رکن ہو گئے یعنی حضرت صاحبزادہ صاحب حضرت میر ناصر نواب صاحب اور سید عبدالحی عرب صاحب۔آپ کا ارادہ مصر سے واپسی پر حج کرنے کا تھا مگر حضرت نانا جان چونکہ براہ راست حج کو جا رہے تھے۔اس لئے آپ نے ان کے ساتھ حج کرنے کا ارادہ کر لیا ہمیٹی کے دوران قیام میں حضرت صاحبزادہ صاحب نے زین الدین محمد ابراہیم صاحب کے مکان پر خطبہ جمعہ پڑھایا۔جس میں یہ لطیف نکتہ بتایا کہ اگر عمل صالح کے بغیر حضرت نبی کریم ﷺ پر ایمان نجات نہیں دے سکتا تو آپ کے غلام کا خالی مان لینا کس کام آئے گا۔قیام بمبئی کے دوران آپ کو حضرت ام المومنین نے خط لکھا۔" مولوی صاحب کا مشورہ ہے کہ پہلے حج کو چلے جاؤ اور میرا جواب یہ ہے کہ میں تو دین کی خدمت کے واسطے تم کو اللہ تعالٰی کی خدمت میں دے چکی ہوں۔اب میرا کوئی دعوئی نہیں وہ جو کسی دینی خدمت کو نہیں گئے بلکہ سیر کو گئے ان کو خطرہ تھا اور تم کو کوئی خطرہ نہیں۔خداوند کریم اپنے خدمت گاروں کی آپ حفاظت کرے گا۔میں نے خدا کے سپرد کر دیا۔تم کو خدا کے سپرد کر دیا اور سب یہاں خیریت ہے۔والدہ محمود احمد "۔بمبئی میں سیٹھ غلام غوث صاحب نے نہایت اخلاص سے اس قافلہ کی ضیافت و مهمان نوازی کے فرائض سرانجام دیئے۔۱۲ / اکتوبر کو یہ قافلہ جہاز پر سوار ہوا۔عرشہ جہاز پر حضرت صاحبزادہ - صاحب کے ساتھ بہت سے انگلستان جانے والے ہندو مسلمان طلبہ بھی تھے مسلمان بھی اور ہندو بھی سب کے سب دہریہ تھے ان کو آپ نے خوب تبلیغ کی۔وہ آپ سے اتنے مانوس ہو گئے کہ جب اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تو آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر دین کی باتیں شروع کر دیتے ان کے ساتھ تین وکیل بیرسٹری کرنے کے لئے جارہے تھے۔جو آپ سے مذہبی اور سیاسی گفتگو کرتے تھے۔اور کہتے تھے کہ مسلمانوں کی بھلائی اسی میں ہے کہ کانگریس میں شامل ہو جائیں۔۲۱ / اکتوبر کو عدن پہنچ کر آپ نے ان کے ساتھ عدن کی سیر کی۔یہ بیرسٹر بھی طلباء کی طرح کے دہریہ اور سخت بد زبان تھے۔مگر آپ کی تبلیغ اور نمونہ سے بہت متاثر ہوئے۔چنانچہ آپ نے حضرت خلیفتہ المسیح اول کے نام ایک مکتوب میں لکھا۔”تین بیرسٹر۔۔۔۔۔سب سے زیادہ دریدہ دہن تھے۔مگر اللہ تعالی کے فضل سے کوشش رائیگاں نہیں گئی اور گو انہوں نے پورے طور سے اقرار نہ کیا۔لیکن ایک نے یہ اقرار کیا کہ گو پہلے میں اس معاملہ میں بالکل نڈر تھا۔لیکن اب خدا کے بارے میں نہیں کرتے یا سنتے میرا دل کانپ جاتا ہے۔اور