تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 413 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 413

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 405 حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ کے سفر ہند و عرب خوشامد ، معیوب وجاہت جاه طلبی خود غرضی خود پسندی سے کہاں تک نافر رہی ہے اور نافر ہے۔اور خدا کا فضل و کرم یہ ہے کہ وہی روش اب تک بھی چلی جاتی ہے۔علم دوستی، علم پروری میں گویا ان کی طبیعت اور ان کا مذاق اپنی آپ ہی نظیر ہے ہزاروں روپے کا کتب خانہ ان کی اپنی ہی خرید ہے۔اور اب تک وہ سلسلہ جاری ہے اور دوسری طرف کھانے پینے اور لباس کا یہ حال ہے کہ دیکھنے سے کوئی اجنبی نہیں کہہ سکتا۔کہ یہ وہی نور دین ہے جو زمانہ بھر میں شہرت رکھتا ہے ان کی بیرونی وجاہت اندرونی وجاہت اور اندرونی عظمت اور علوشان کا عکس ہے۔کیونکہ بائیں حالات رعب اور ہی شان لئے ہوئے ہے۔ایک طرف احسان پروری کی کوئی حد نہیں اور دوسری جانب احسان فراموشی اور احسان خواری سے طبیعت کو سوں بھاگتی ہے۔یہ بات کسی نمائش کی غرض سے نہیں بلکہ طبیعت بھی مستغنی واقع ہوئی ہے۔اور یہ کہ کوئی دوسرا کیوں تکلیف میں پڑے صوفیائے کرام اور حضرات اولیائے عظام کی خدمت میں جو کچھ عقیدت ہے اس کا ہر رنگ میں اعتراف ہے چار مشاہیر اسلام سے بیعت ہے اور چاروں سے اب تک وہی عقیدت ہے اور اسی ادب و عزت سے ان کا ذکر کیا جاتا ہے۔جو شروع میں تھا۔سوچنے والے سوچیں کہ مولوی صاحب کو بزرگان دین سے کہاں تک عقیدت اور محبت ہے اور مختلف انساب صوفیائے عظام سے انہیں کیسی اعلیٰ نسبت ہے اسی حسن عقیدت کا یہ اثر اور یہ نتیجہ ہے کہ خود مولوی صاحب بھی اسی سلسلہ عظام سے وابستہ ہو چکے ہیں ذالک فضل الله يوتيه من يشاء "۔احمدی مستورات کی تربیت کے لئے اس وقت تک کوئی رسالہ ”احمدی خاتون کا اجراء رسالہ مرکز سے جاری نہیں تھا اس کمی کو احمدی خاتون نے پورا کر دیا جو حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کی ادارت میں ستمبر ۱۹۱۲ء سے نکلنا شروع ہوا۔یہ رسالہ خلافت ثانیہ کے ابتدائی دور تک جاری رہا۔خواجہ کمال الدین صاحب کا سفر انگلستان خواجہ کمال الدین صاحب اپنے سفر بمبئی میں سید محمد رضوی صاحب وکیل سے ان کے مقدمہ کی پیروی کے سلسلہ میں جو معاہدہ کر چکے تھے اس کی تعمیل کے لئے انہی کے خرچ پر آپ نے اس سال سفر انگلستان اختیار کیا۔آخر اگست میں آپ حضرت خلیفتہ المسیح کی خدمت میں الوداعی ملاقات کے لئے حاضر ہوئے آپ نے نصیحت فرمائی کہ تم ولایت کو جاتے ہو کسی اپنی خوبی کا گھمنڈ مت کرنا۔شراب ، سئو ر بری مجلس سے بچتے رہنا۔میرے بھی تم پر بڑے بڑے حق ہیں۔میری باتوں کا خیال رکھنا۔اپنی طاقت کے مطابق دین کی خدمت وہاں ضرور کرنا۔ہم کو ایک خط ضرور لکھا کریں۔اگر نہ ہو