تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 408
تاریخ احمدیت جلد ۳ 400 حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ کے سفر ہند و عرب خلیفہ بنایا ہے تو وہ جھوٹا ہے اس قسم کے خیالات ہلاکت کی حد تک پہنچاتے ہیں۔تم ان سے بچو۔پھر سن لو کہ مجھے نہ کسی انسان نے نہ کسی انجمن نے خلیفہ بنایا ہے اور نہ میں کسی انجمن کو اس قابل سمجھتا ہوں کہ وہ خلیفہ بنائے۔پس مجھ کو نہ کسی انجمن نے بنایا اور نہ میں اس کے بنانے کی قدر کرتا ہوں اور اس کے چھوڑ دینے پر تھوکتا بھی نہیں۔اور نہ اب کسی میں طاقت ہے کہ وہ اس خلافت کی ردا کو مجھ سے چھین لے۔اب سوال ہوتا ہے کہ خلافت حق کس کا ہے؟ ایک میرا نہایت ہی پیارا محمود ہے جو میرے آقا اور محسن کا بیٹا ہے۔پھر دامادی کے لحاظ سے نواب محمد علی کو کہہ دیں۔پھر خسر کی حیثیت سے ناصر نواب صاحب کا حق ہے یا ام المومنین کا حق ہے جو حضرت صاحب کی بیوی میں یہی لوگ ہیں جو خلافت کے حقدار ہو سکتے ہیں مگر یہ کیسی عجیب بات ہے کہ جو لوگ خلافت کے متعلق بحث کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کا حق کسی اور نے لے لیا ہے وہ یہ نہیں سوچتے کہ یہ سب میرے فرمانبردار اور وفادار ہیں۔اور انہوں نے اپنا دعوئی ان کے سامنے پیش نہیں کیا۔مرزا صاحب کی اولاد دل سے میری فدائی ہے۔میں سچ کہتا ہوں کہ جتنی فرمانبرداری میرا پیارا محمود بشیر شریف۔نواب ناصر- نواب محمد علی خاں کرتا ہے تم میں سے ایک بھی نظر نہیں آتا۔میں کسی لحاظ سے نہیں کہتا بلکہ امر واقعہ کا اعلان کرتا ہوں ان کو خدا کی رضا کے لئے محبت ہے بیوی صاحبہ کے منہ سے بیسیوں مرتبہ میں نے سنا ہے کہ میں تو آپ کی لونڈی ہوں۔۔۔۔۔۔۔میاں محمود بالغ ہے اس سے پوچھ لو کہ وہ سچا فرمانبردار ہے۔ہاں ایک معترض کہہ سکتا ہے کہ سچا فرمانبردار نہیں۔مگر نہیں۔میں خوب جانتا ہوں کہ وہ میرا سچا فرمانبردار ہے اور ایسا فرمانبردار کہ تم (میں سے) ایک بھی نہیں۔جس طرح علی - فاطمہ عباس نے ابو بکر کی بیعت کی تھی اس سے بھی بڑھ کر مرزا صاحب کے خاندان نے میری فرمانبرداری کی ہے۔اور ایک ایک ان میں سے مجھ پر فدا ہے کہ مجھے کبھی وہم بھی نہیں آسکتا کہ میرے متعلق انہیں کوئی وہم آتا ہو۔ย سنو ا میرے دل میں کبھی یہ غرض نہ تھی کہ میں خلیفہ بنتا۔میں جب مرزا صاحب کا مرید نہ تھا تب بھی میرا یہی لباس تھا۔میں امراء کے پاس گیا اور معزز حیثیت میں گیا مگر تب بھی یہی لباس تھا۔مرید ہو کر بھی اسی حالت میں رہا۔مرزا صاحب کی وفات کے بعد جو کچھ کیا خداتعالی نے کیا میرے وہم و خیال میں بھی یہ بات نہ تھی مگر اللہ تعالی کی مشیت نے چاہا اور اپنے مصالح سے چاہا مجھے تمہار ا امام اور خلیفہ بنا دیا اور جو تمہارے خیال میں حقدار تھے ان کو بھی میرے سامنے جھکا دیا۔اب تم اعتراض کرنے والے کون ہو ؟ اگر اعتراض ہے تو جاؤ خدا پر اعتراض کرد مگر اس گستاخی اور بے ادبی کے وبال سے بھی آگاہ