تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 394
تاریخ احمدیت جلد ۳ 386 الجمن انصار اللہ کا قیام سکتی اس لئے تم میں سے کوئی مجھے معزول کرنے کی قدرت اور طاقت نہیں رکھتا۔اگر اللہ تعالٰی نے مجھے معزول کرنا ہو گا۔تو وہ مجھے موت دے دے گا۔تم اس معالمہ کو خدا کے حوالہ کرو تم معزول کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔میں تم میں سے کسی کا بھی شکر گزار نہیں ہوں جھوٹا ہے وہ شخص جو کہتا ہے کہ ہم نے خلیفہ بنایا مجھے یہ لفظ ہی دکھ دیتا ہے جو کسی نے کہا کہ پارلیمنٹوں کا زمانہ ہے۔دستوری حکومت ہے مجھے وہ لفظ خوب یاد ہیں کہ ایران میں پارلیمنٹ ہو گئی اور دستوری کا زمانہ ہے انہوں نے اس قسم کے الفاظ بول کر جھوٹ بولا بے ادبی کی۔۔خوب یاد رکھو اور سن رکھو میری امانت و دیانت کی حفاظت تم سے نہیں ہو سکتی۔اور کوئی بھی نہیں کر سکتا۔مجھے تم میں سے کسی کا خوف نہیں اور بالکل نہیں ہاں میں صرف خدا ہی کا خوف رکھتا ہوں پس تم ایسی بد گمانی نہ کرو اور توبہ کرو۔اگر ہمارا گناہ ہے تو ہمارے ہی ذمہ رہنے دو۔اگر میں غلطی کرتا ہوں۔اس بڑھاپے اور اس عمر میں قرآن مجید نے نہیں سمجھایا تو پھر تم کیا سمجھاؤ گے ؟ میری حالت یہ ہے کہ بیٹھتا ہوں تو پیر دکھی ہوتے ہیں کھڑا ہوتا ہوں تو محض اس نیت سے کہ آنحضرت ا کھڑے ہو کر خطبہ پڑھتے تھے۔میں نہیں جانتا میرا کتنا وقت ہے۔مجھے کیا معلوم ہے کہ پھر کہنے کا موقعہ ملے گا یا نہیں۔موقعہ ہو تو تو فیق ہو یا نہ ہو اس لئے میں نے ضروری سمجھا کہ تم کو حق پہنچا دوں۔پس میری سنو اور خدا کے لئے سنو اس کی بات ہے جو میں سناتا ہوں میری نہیں کہ واعتصموا بحبل الله جميعا ولا تفرقوا " - a جلسہ سالانہ ۱۹۱۱ ء پر حضرت صاحبزادہ صاحب نے مدارج تقویٰ کے موضوع پر حق مدارج تقوی و معرفت سے لبریز ایک نہایت لطیف تقریر فرمائی۔بعد میں یہ تقریر رسالہ کی صورت میں بھی شائع کر دی گئی۔1911 ء کے متفرق واقعات - الہ آباد میں مذاہب عالم کا نفرنس ہوئی۔جس میں مولوی محمد علی صاحب کا مضمون پڑھا گیا۔اور خواجہ صاحب کا کامیاب لیکچر ہوا۔A علاوہ ازیں خواجہ صاحب نے آگرہ کپور تھلہ اور امرت سر میں بھی لیکچر کئے۔زمیندار نے لکھا۔”خواجہ صاحب کا لیکچر معلومات کا ایک گنجینہ ہوتا ہے اور چونکہ وہ آیات قرآنی اور احادیث نبوی کی چاشنی سے اپنی فلسفیانہ تقریر کو مسلمانوں کے کام و زبان کے لئے مرغوب بنانے کا فن خوب جانتے ہیں اس لئے سننے والوں کو ان کی تقریروں میں ایک خاص لطف آتا ہے "۔۲۶-۲۵ - ۲۷/ اگست ۱۹۱۱ء کو جماعت احمدیہ شملہ کا سالانہ جلسہ منعقد ہوا۔مولوی غلام رسول صاحب را جیکی ، مولوی محمد علی صاحب مولوی صدر الدین صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب کی تقاریر ہوئیں۔AA