تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 393 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 393

تاریخ احمدیت جلد ۳ 385 انجمن انصار اللہ کا قیام کرتا ہوں۔میں نہیں چاہتا کہ تم میں ایسی باتیں پیدا ہوں جو تنازعہ کا موجب ہوں۔۔تم کو کیا معلوم ہے کہ قوم میں تفرقہ کے خیال سے بھی میرے دل پر کیا گذرتی ہے ؟ تم اس تکلیف کا احساس نہیں رکھتے۔جو مجھے ہوتی ہے میں یہ چاہتا ہوں اور خدا ہی کے فضل سے یہ ہو گا۔کہ میں تمہارے اندر کسی قسم کے تنازعہ اور تفرقہ کی بات نہ سنوں بلکہ میں اپنی آنکھوں سے دیکھوں کہ تم اللہ تعالٰی کے اس ارشاد کا عملی نمونہ ہو۔و اعتصموا بحبل الله جميعا ولا تفرقوا۔صحابہ کے آثار پڑھو کم از کم موطا امام محمد اور آثار امام محمد ہی کو پڑھ لو صحابہ ایسے مسائل جزویہ میں اپنے ذوق کے موافق ترجیح دیتے تھے۔مگر یہ مسائل ان میں اختلاف کا باعث نہ ہوتے تھے۔میں پھر تمہیں کہتا ہوں کہ جو سنتا ہے وہ سن لے اور دوسرے کو پہنچا دے کہ جھگڑا مت کرو ہم مر جائیں گے پھر تمہیں بہت سے موقعے جھگڑنے کے ہیں۔تم سمجھتے ہو میں حضرت ابو بکر کی طرح آسانی سے خلیفہ بن گیا ہوں۔تم اس حقیقت کو سمجھ نہیں سکتے۔اور نہ اس دکھ کا اندازہ کر سکتے ہو اور نہ اس بوجھ کو سمجھ سکتے ہو جو مجھ پر رکھا گیا ہے یہ خدا کا فضل ہے کہ میں اس بوجھ کو برداشت کر سکا۔تم میں سے کوئی بھی نہیں جو اس کو برداشت تو ایک طرف محسوس بھی کر سکے۔کیا وہ شخص جس کے ساتھ لاکھوں انسانوں کا تعلق ہو آرام کی نیند سو سکتا ہے ؟ نیز فرمایا۔Ar میں اس مسجد میں قرآن کریم ہاتھ میں لے کر خدا تعالی کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے پیر بننے کی خواہش ہرگز نہیں اور نہ تھی اور قطعا خواہش نہ تھی۔خدا تعالیٰ کے منشاء کو کون جان سکتا ہے۔اس نے جو چاہا کیا۔تم سب کو پکڑ کر میرے ہاتھ پر جمع کر دیا اور اس نے آپ نہ تم میں سے کسی نے مجھے خلافت کا کرتا پہنا دیا۔میں اس کی عزت اور ادب کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں باوجود اس کے میں تمہارے مال اور تمہاری کسی بات کا بھی روادار نہیں اور میرے دل میں اتنی بھی خواہش نہیں کہ کوئی مجھے سلام کرتا ہے یا نہیں تمہارا مال جو میرے پاس نذر کے رنگ میں آتا تھا۔اس سے پہلے اپریل تک میں اسے مولوی محمد علی کو دے دیا کرتا تھا۔مگر کسی کو غلطی میں ڈالا اور اس نے کہا کہ یہ ہمارا روپیہ ہے اور ہم اس کے محافظ ہیں تب میں نے محض خدا کی رضا کے لئے اس روپیہ کو دینا بند کر دیا۔کہ میں دیکھوں یہ کیا کر سکتے ہیں ایسا کہنے والے نے غلطی کی۔نہیں بے ادبی کی اسے چاہئے کہ وہ تو بہ کرے میں پھر کہتا ہوں کہ وہ تو بہ کرے اب بھی توبہ کرلیں۔ایسے لوگ اگر تو بہ نہ کریں گے تو ان کے لئے اچھا نہ ہوگا۔تم خوب یا درکھو کہ د کہ معزول کرنا اب تمہارے اختیار میں نہیں۔تم مجھ میں عیب دیکھو آگاہ کر دو۔مگر ادب کو ہاتھ سے نہ جانے دو۔خلیفہ بنانا انسان کا کام نہیں۔یہ خدا تعالیٰ کا اپنا کام ہے۔بس مجھے اگر خلیفہ بنایا ہے تو خدا نے بنایا ہے اور اپنے مصالح سے بنایا ہے۔خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے خلیفہ کو کوئی طاقت معزول نہیں کر