تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 392
تاریخ احمدیت 384 الجمن انصار اللہ کا قیام جلد اول ( صفحه ۴۴۲۳-۲۴۴) پر لکھتے ہیں۔”جب دیر میشیز مرکزی یونین سے تشریف لے جا کر شاہی تختوں پر رونق افروز ہو گئے تو سب حاضرین کا یہی خیال تھا کہ اب دربار ختم ہو گیا لیکن حاضرین دربار کے تعجب و حیرانی کی کوئی حد نہ رہی جبکہ انہوں نے دیکھا کہ ویر میجسٹیز اپنی جگہوں پر کھڑے ہو گئے اور حضور ملک معظم نے گورنر جنرل سے ایک کاغذ لے کر نہایت صاف الفاظ میں پڑھنا شروع فرمایا۔" ہم خوشی کے ساتھ اپنی رعایا کو اعلان کرتے ہیں کہ صلاح اپنے وزراء کے جو بعد گورنر جنرل با حساس کو نسل سے مشورہ لینے کی کی گئی ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ گورنمنٹ ہند کا دار السلطنت اب بجائے کلکتہ کے دہلی قرار دیا جائے جو زمانہ قدیم میں رہا ہے اور باعث اس تبدیلی کے جس قدر جلد ممکن ہو صوبہ بنگال کے لئے ایک گورنری قائم کی جائے۔اعلان ختم ہونے پر دیر میجسٹیز اپنے تختوں پر متمکن ہو گئے۔واقعی اس اعلان شاہی کو لوگوں نے نہایت حیرت سے سنا کیونکہ کسی کو اس کا سان و گمان بھی نہ تھا"۔"ذکر اقبال " میں لکھا ہے۔"اقبال نے بھی تقسیم بنگال کی تنسیخ پر تو دوسرے مسلمانوں ہی کی طرح صدمہ محسوس کیا لیکن انگریز کی طرف سے اس کی تلافی کا بھی کسی حد تک اعتراف کیا چنانچہ انہوں نے ایک خط میں لکھا کہ حکومت نے انتقال دار السلطنت سے گویا بنگالیوں کی اہمیت گھٹا کر صفر کر دی۔۔۔اس خط میں دو شعر بھی لکھے مندمل زخم دل بنگال آخر ہو گیا وہ جو تھی پہلے تمیز کافر و مومن گئی تاج شاہی آج کلکتہ سے دہلی آگیا مل گئی باہو کو جوتی اور پگڑی چھن گئی 29 حضرت خلیفۃ اسی اول کا حضرت خلیفۃ اصحیح اول کا خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۱۱ ء پر ے ارادہ جلسہ ۱۹۱۱ء پر کوئی خاص تقریر کرنے کا نہیں تھا اور آپ کا منشاء یہ تھا کہ میں ہر روز درس دیتا ہی ہوں ان ایام میں اس درس میں ہی کچھ وسعت کرلوں گا مگر ایک دوست کی تحریک پر آپ نے ۲۷/ دسمبر ۱۹۱ء کو اڑھائی گھنٹہ تک تقریر فرمائی جس کے معرفت و حکمت کے نکتے اور درد دل کی نصائح سامعین کے دلوں کو پاک کرنے کا موجب ہوئے۔m اپنی تقریر میں بھی آپ نے جماعت کو خاص طور پر یہ تاکید فرمائی کہ وہ اتحاد و اتفاق سے رہیں اور تفرقہ اندازی سے بچیں۔اور نکمی اور فضول بحثوں کو چھوڑ دیں چنانچہ فرمایا: میں خلیفہ المسیح ہوں۔اور خدا نے مجھے بنایا ہے میری کوئی خواہش اور آرزو نہ تھی اور کبھی نہ تھی۔اب جب خدا تعالٰی نے مجھے یہ ردا پہنادی ہے میں ان جھگڑوں کو نا پسند کرتا ہوں اور سخت ناپسند