تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 375 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 375

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 367 المجمن انصار اللہ کا قیام ہے۔"۔" خاتم النبین " پر نظام المشائخ میں مضمون دہلی سے خواجہ حسن نظامی صاحب کی زیر ادارت ایک رسالہ "نظام المشائخ " چھپتا تھا اس رسالہ کا "رسول نمبر " مارچ 1911ء میں شائع ہوا۔ادارہ نے اس خاص اشاعت کے لئے دو سرے اہل قلم اور سر بر آوردہ حضرات کے علاوہ حضرت صاحبزادہ صاحب سے بھی اپنا مضمون بھجوانے کی درخواست کی۔جس پر آپ نے " خاتم النبین " کے عنوان سے ایک نہایت لطیف اور روح پرور مضمون لکھا جو مندرجہ ذیل ادارتی نوٹ کے ساتھ شائع ہوا: گذشته ربیع الاول ۱۳۲۹ھ میں جب ہمیں پہلی دفعہ "رسول نمبر " نکالنے کا خیال پیدا ہوا تو ہم نے مختلف مذاہب و مشارب کے پیشواؤں کو لکھا تھا۔کہ وہ براہ عنایت رسول اللہ ﷺ کی نسبت اپنے خیالات و آراء ظاہر فرمائیں۔انہی میں صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد خلف جناب مرزا غلام احمد صاحب مرحوم دعویدار مسیحیت بھی تھے۔لیکن افسوس کہ ان کا جواب موصول ہو کر ایسا گم ہوا کہ انتیں تو انتیں ۱۳۲۰ھ کے "رسول نمبر" میں بھی شائع نہ کیا جا سکا۔۔۔۔۔ہم صاحبزادہ صاحب سے معافی چاہتے ہیں اور دلی شکریہ کے ساتھ اسے ذیل میں درج کرتے ہیں"۔تو 5 مارچ 1911ء میں دربار خلافت سے ایک حضرت خلیفہ اول کی طرف سے اہم تصریح اہم تصریح ہوئی۔حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح اول کی خدمت میں ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب سول سرجن لاہور کا یہ سوال پیش ہوا۔کہ احمدیوں اور غیر احمدیوں میں کوئی فروعی اختلاف ہے "۔فرمایا۔یہ بات تو بالکل غلط ہے کہ ہمارے اور غیر احمدیوں کے درمیان کوئی فروعی اختلاف ہے۔D کیونکہ جس طرح پر وہ نماز پڑھتے ہیں ہم بھی پڑھتے ہیں اور زکوۃ۔حج اور روزوں کے متعلق ہمارے اور ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔میری سمجھ میں ہمارے اور ان کے درمیان اصولی فرق ہے۔اور وہ یہ کہ ایمان کے لئے یہ ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان ہو اس کے ملائکہ پر کتب سماویہ پر اور رسل پر۔خیرو شر کے اندازوں پر اور بعث بعد الموت پر۔اب غور طلب امر یہ ہے کہ ہمارے مخالف بھی مانتے ہیں اور اس کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن یہاں سے ہی ہمارا اور ان کا اختلاف شروع ہو جاتا ہے۔ایمان بالرسل اگر نہ ہو تو کوئی شخص مومن مسلمان نہیں ہو سکتا۔اور اس ایمان بالرسل میں کوئی تخصیص نہیں عام (ہے) خواہ وہ نبی پہلے آئے یا بعد میں آئے ہندوستان میں ہوں یا کسی اور ملک میں۔کسی مامور من اللہ کا انکار کفر ہو جاتا ہے اب بتلاؤ کہ یہ اختلاف فرومی کیونکر ہوا۔قرآن میں تو لکھا ہے لا نفرق بين احد من رسلہ لیکن حضرت مسیح موعود کے انکار