تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 374
366 الجمن انصار اللہ کا قیام کے ایڈیٹر تھے۔اور اپنے فولادی قلم سے مسلمانان ہند کو سیاست کی ایک خاص لائن کی طرف چلانے کے لئے سرگرم عمل تھے۔" انصار اللہ " ہی کے نام سے ایک تحریک کی بنیاد رکھی۔یہ تو بیگانوں کا رد عمل تھا مگر اپنوں میں سے بعض نے جن کی ذہنیت منکرین خلافت کے اثر کے نیچے بگڑ چکی تھی۔اس مبارک انجمن پر کئی اعتراضات اٹھانے شروع کر دئیے۔مثلا (1) اس کا نام انصار اللہ کیوں رکھا گیا۔کیا دوسرے احمدی انصار اللہ نہیں ؟ ۲۰ یہ انجمن خواجہ کمال الدین صاحب کے بالتقابل کھڑی کی گئی ہے ؟ (۳) جماعت کے اندر ایک الگ جماعت بنادی گئی ہے اور جماعت میں تفرقہ ڈال دیا ہے وغیرہ وغیرہ۔حضرت صاجزادہ صاحب نے ایک مضمون کے ذریعہ سے ان تمام اعتراضات کا تسلی بخش جواب دیا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ : (۱) انصار اللہ " کا نام تو محض تفاؤل کے طور پر رکھا گیا ہے جس طرح لوگ اپنے بیٹوں کا نام مختلف انبیاء کے نام پر محمد - احمد - موسیٰ۔عیسی - حسن - حسین رکھتے ہیں جب یہ نہیں سمجھا جاتا کہ وہ اپنے بیٹوں کے علاوہ دوسروں کو معاذ اللہ ابو جہل یا فرعون یا یزید کی اولاد قرار دے رہے ہیں اسی طرح انجمن کا نام انصار اللہ رکھنے سے یہ کیسے نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ دوسرے ہماری نگاہ میں عدو اللہ ہیں۔(۲) تبلیغ فرض عین ہے فرض کفایہ نہیں اس لئے خواجہ صاحب کی تبلیغ اسلام کے باوجود ہمارا فرض ہے کہ زیادہ سے زیادہ احمدی یہ کام کریں۔تا قوم کی زندگی اور ایثار کا نشان ہو۔(۳) حضرت خلیفتہ المسیح اول نے حضرت مسیح موعود کی موجودگی میں ایک مجلس " مجمع احباب" کے نام سے بنائی تھی۔بالکل یہی پوزیشن انجمن انصار اللہ کی ہے۔ایک مضحکہ خیز اعتراض یہ کیا گیا کہ یہ ایک خفیہ سوسائٹی ہے آپ نے اس کے جواب میں مختصرا اتنا کہا کہ "کیا خفیہ سوسائٹیاں اپنی کارروائیاں مساجد میں کھلے بندوں کرتی ہیں اور اخباروں میں اس کو شائع کرتی ہیں۔میرے دوستوا ان اختلافات کو چھوڑو اور بجائے نیک کام پر اعتراض کرنے کے خود نیکی میں بڑھو"۔mm صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کی ولادت ۱۳ مارچ ۱۹۱۱ء کو صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب پیدا ہوئے۔چنانچہ اخبار الحکم نے لکھا۔"۱۳ / مارچ 1911ء کی صبح ساکنین الدار اور مہاجرین دارالامان کے لئے عموماً اور خاندان نبوت کے لئے خصوصا ایک خاص فضل اور بشارت کو لے کر آئی کہ حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد سلمہ اللہ الاحد کے مشکوئے معلیٰ میں پہلا بیٹا پیدا ہوا۔جو خاندان احمد میں دوسرا نافلہ (ہوتا) اور چراغ