تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 373 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 373

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 365 انجمن انصار اللہ کا قیام استخارہ کرے اگر اس کے بعد اس کا دل اللہ کے تصرف سے اس طرف مائل ہو تو پھر شوق سے داخل انجمن ہو سکتا ہے ورنہ نہیں۔اس اعلان پر ابتداء میں مندرجہ ذیل اصحاب انجمن انصار اللہ کے ممبر بنے : -1- حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب ( قادیان) ۲- حضرت حافظ روشن علی صاحب قادیان ۳ منشی احمد دین صاحب اپیل نویس گوجرانوالہ -۴ ( خان صاحب) منشی فرزند علی صاحب ہیڈ کلرک قلعہ میگزین فیروز پور ۵- شیخ عبد الرحمن صاحب لاہوری نو مسلم قادیان ۶ - سید صادق حسین صاحب مختار عدالت اٹاوہ ۷ - شیخ غلام احمد صاحب واعظ قادیان ان کے بعد رفتہ رفتہ جماعت کے بہت سے سر بر آوردہ اصحاب اس مبارک تحریک میں شامل ہو گئے۔۱۲ / اپریل ۱۹۱۱ء کو اس انجمن کا افتتاحی جلسہ قادیان میں منعقد ہوا۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے اس جلسہ میں ممبروں کو متعدد ہدایات دیں مثلا یہ کہ وہ تبلیغی لیکچر دینے کے لئے بہت مشق کریں اور چھٹیاں لے کر مرکز میں آئیں۔ہر روز تبلیغ کریں۔خواہ پانچ منٹ کے لئے ہی سہی ، انصار کثرت سے باہم ملاقات کریں۔کسی شہر میں جائیں تو وہاں کے انصار کو تلاش کر کے ملیں اگر ریل میں سفر کر رہے ہیں تو جو اسٹیشن رستے میں آتے ہوں وہاں کے انصار کو اطلاع دیں۔انصار سفر میں حتی الوسع انصار ہی کے پاس ٹھہریں۔میں تو صحابہ کی طرح دینی گفتگو کر کے ایمان تازہ کر لیں۔انصار کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفہ اول اور علمائے سلسلہ کی بعض خاص کتابوں کا پڑھنا لازمی قرار دیا گیا۔جو مختلف مذاہب کی تردید یا اسلام کی حمایت میں لکھی گئی تھیں۔حضرت خلیفتہ المسیح اول کی سرپرستی اور حضرت صاحبزادہ صاحب کی قیادت دونوں نے اس انجمن کے ممبروں میں زندگی کی ایک نئی لہردوڑا دی اور اسلام و احمدیت کی تبلیغ کا کام جو بہت پیچھے جارہا تھا پھر سے تیز رفتاری کے ساتھ شروع ہو گیا۔چنانچہ جولائی ۱۹۱۳ء تک اس کے ممبروں کے ذریعہ دو تین سو آدمی سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔اور یہ سلسلہ اسی طرح بعد میں بھی جاری رہا۔انجمن نے جماعت میں مبلغین اسلام کی ایک جمعیت تیار کر دی جس نے آئندہ چل کر جماعت احمدیہ کی ترقی داشاعت میں بڑا بھاری حصہ لیا۔انجمن نے اپنے خرچ پر ایک ممبر چوہدری فتح محمد صاحب سیال کو انگلستان میں خواجہ کمال الدین صاحب کی مدد کے لئے بھجوایا۔علاوہ ازیں شیخ عبد الرحمن صاحب نو مسلم اور سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب انصار اللہ کی طرف سے تعلیم و تبلیغ کی خاطر مصر بھیجے گئے۔مگر اس کے لئے کوئی عام چندہ نہیں کیا گیا۔مولوی ابو الکلام صاحب آزاد نے بھی جو ان دنوں "الحلال" اخبار