تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 364
356 قاریان میں متعدد پبلک عمارتوں کی تعمیر تاریخ احمدیت جلد ۳ يضر مع اسمه شئى في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم اعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق (ترجمہ) اس خدا کے نام سے شروع کرتا ہوں جس کے نام کے ساتھ زمین و آسمان کی کوئی چیز بھی ضرر نہیں پہنچا سکتی اور وہ خوب سننے والا اور خوب جاننے والا خدا ہے میں اس کی مخلوق کے شرسے اللہ تعالی کے کلمات تامہ کی پناہ میں آتا ہوں۔(الحکم کے مارچ ۱۹۱۰ء صفحہ ۴ کالم ۲۰۱ ۲۸ الحكم ۲۸/ مارچ ۷۰ / اپریل ۱۹۱۰ء صفحه ۲-۳ ۲۹- بدر۳۱ / مارچ ۱۹۷۰ء صفحه ۲۰۱ -1 ا حکم ۲۸ / مارچ دے / اپریل ۱۹۱۰ ء صفحہ ۶-۷ ۳۱- بدر ۳۱ مارچ ۱۹۱۰ء صفحه ۲ ۳۲ الحکم ۱۴۰۲۸ اپریل ۱۹۱۰ء صفحہ اکالم ۳ صفحه ۳۱ کالم ۳۴۲ ۳۳ - الحکم ۲۸/ مئی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۰ کالم ۳ و بدر ۲۳ جون ۱۹۱۰ م صفحه ۷-۸ ۳۴ اصل خط خاندان حضرت خلیفہ اول کے پاس محفوظ ہے۔۰۳۵ ۱۵ مئی ۱۹۱۰ء صفحه ۸ کالم ۱ ۳۶ (بدر ۲۱-۱۴-۷ / اپریل ۱۹۱۰ء صفحه ۲ کالم ۲) الحکم ۲۸-۱۴ اپریل ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۰ کالم ۳ یعنی میاں عبد السنان صاحب عمر ۳۹- الحکم ۲۸-۱۴ / اپریل ۱۹۱۰ء صفحه ۱۱ -۴۰ یہ بات عبد الله تیما پوری کے ایک خط سے ثابت ہوتی ہے جو خاندان حضرت خلیفہ اول کے پاس محفوظ ہے۔ان لوگوں کے بعد بغض اور لوگ بھی مختلف دعاوی لے کر آئے۔صدیق دیندار چن بسویشور - عبد اللطیف گنا چوری وغیرہ ۴۲۔الحکم ۲۸-۱۷/ اپریل ۱۹۱۰ء صفحه ۲۳ ۴۳- بدر ۱۳/ مئی ۱۹۱۰ء صفحه ۲ کالم ۴۴- الحکم ۱۴-۷ جون ۱۹۱۰ء صفحہ ۲ ۴۵ رجسٹر نمبر ۳ صد را انجمن احمدیہ صفحہ ۱۷ -۴- پدر ۳۰ / جون ۱۹۱۰ء صفحه ۲ کالم ۳ ۲۷ اخبار بد را۲۸۰۲ جولائی ۱۹۱۰ء صفحہ ۲ کالم ۲-۲۳ ۲۸ به تصویر حضرت قاضی محمد یوسف صاحب ہوتی مردان نے راقم الحروف کو بھیجوائی تھی۔الفضل ۳۱/دسمبر ۱۹۱۳ء صفحہ اکالم ۲ ۵۰ بدر ۱۴ جولائی ۱۹۱۰ء صفحہ ا کالم ۲ ۰۵۱ الحکم ۲۸ جولائی ۱۹۱۰ء صفحہ سے کالم ۳- ایضابد را / اگست ۱۹۱۰ء صفحه ۳ کالم ۲۰۱ -۵۲ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے ۲۳ / جولائی ۱۹۱۰ء کی شام کو حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں درخواست بھیجی کہ اجازت ہو تو عاجز بھی حضور کے ہمرکاب ملتان جائے۔حضرت نے اس پر اپنے قلم سے رقم فرمایا۔شام کو عرض کروں گا"۔نور الدین اللہ اللہ خدا کازی شان خلیفہ کسی انکسار و فروتنی سے اپنے خدام کو خطاب فرماتا ہے۔۵۳۔اس موقعہ پر آپ نے حضرت سید احمد صاحب بریلوی کے سفریج کا یہ عجیب واقعہ سنایا کہ جب آپ جہاز میں سوار تھے تو سمندر میں سخت خوفناک طوفان اٹھا۔اس وقت حضرت سید صاحب کو اونگھ آئی اور آپ نے فرمایا۔نہیں۔عرض کیا گیا۔یہ کس بات پر آپ نے فرمایا۔فرمانے لگے۔کہ سمندر میرے سامنے آیا اور کہا کہ اگر آپ کوئی ارشاد فرما ئیں تو میں اس کی تعمیل کروں۔میں نے جواب دیا مجھے تمہاری کوئی ضرورت نہیں۔تھوڑی دیر کے بعد آپ کی زبان پر الحمد شریف کے الفاظ جاری ہوئے۔دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ سمندر پھر حاضر ہوا۔اور اس نے خبر دی کہ مجھے اللہ نے حکم دیا ہے کہ سید صاحب کے کسی رفیق کی قبر تجھے