تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 346 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 346

تاریخ احمدیت ، جلد ۳ 338 قادیان میں متعدد پبلک عمارتوں کی تعمیر ہے تو اپنے دلی طمع سے حکم نہیں دیا۔خدا کا حکم سمجھ کر دیا ہے نمازیں پڑھو۔دعائیں مانگو۔دعا بڑا ہتھیار ہے تقویٰ کرو بس۔پھر فرمایا دعائیں مانگو۔نمازیں پڑھو بہت مسئلوں میں جھگڑے نہ کرو۔جھگڑوں میں بہت نقصان ہوتا ہے بہت جھگڑا ہو تو خاموشی اختیار کرو۔اور اپنے لئے اپنے دشمنوں کے لئے دعا کرو۔پھر فرمایا۔لا اله الا الله محمد رسول الله اکثر پڑھا کرو۔قرآن کو مضبوط پکڑو - قرآن بہت پڑھو اور اس پر عمل کرو۔پھر فرمایا۔رضیت بالله ربا وبالاسلام دينا و بمحمد ر سو لا ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے عرض کیا کہ کیا یہ لکھ دیا جاوے کہ یہی حضور کی وصیت ہے فرمایا ہاں۔فرمایا جاؤ حوالہ بخدا | HO invi -۱۳- حضرت شیخ یعقوب علی صاحب نے عرض کیا۔آپ کی بیماری سے دل کو ازحد تکلیف ہوتی ہے مگر یہ امر بڑا ہی خوشکن ہے کہ ایک عظیم الشان نشان ظاہر ہوا ہے فرمایا اگر یہ بڑا نشان نہ تھا تو حضرت صاحب کو اتنا عرصہ پہلے کیوں دکھایا گیا؟ ۱۴۔حضرت مسیح موعود کے مخلص خادم میاں جان محمد صاحب کا بیٹا میاں دین محمد عرف بگا آیا تو حضور نے حکم دیا کہ اسے ایک روپیہ دے دو نیز فرمایا اس کی والدہ اس کے رشتہ کی تلاش کرے ہم بھی مدد دیں گے۔۱۵- ایک دفعہ فرمایا مجھے اپنی اولاد کا کچھ بھی فکر نہیں۔اس وقت آپ کو ابھی تک ماشرہ کا درم موجود تھا اور آپ کو تکلیف تھی۔۱۶- مولوی عبد القادر صاحب لدھیانوی نے رویاء میں دیکھا کہ مولانا محمد قاسم صاحب حضرت خلیفتہ المسیح کی عیادت کو آئے ہیں اور ایک سو روپیہ صدقہ کرنے کے لئے فرمایا ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح نے خواب سنتے ہی حکم دیا کہ ایک سور دو پہیہ نقد صدقہ کر دیا جائے۔۱۷۔ایک روز حضرت حافظ روشن علی صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مشہور عربی قصیدہ نونیہ آپ کو سنا رہے تھے کہ آپ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے قریب تھا کہ اس جوش محبت میں آپ کی جان چلی جاتی آپ نے سب کو اٹھا دیا۔لیں۔HA- ۱۸- مولوی محمد علی صاحب سے فرمایا کہ نیا مہمان خانہ ہماری زندگی میں تعمیر کرا دو تا ہم بھی دیکھ ١٩- حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ناظم مدرسہ احمدیہ ) کی یہ تجویز حضرت کے علم میں آئی کہ کوئی آدمی مصر میں تعلیم کے لئے بھیجا جائے جو تعلیم حاصل کر کے مدرسہ احمدیہ میں کام کرے۔فرمایا دو تین آدمی بھیجنے چاہئیں نصف خرچ ہم دیں گے۔