تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 15
تاریخ احمدیت جلد ۳ بسم اللہ الرحمن الرحیم حصہ اول (پہلا باب) 15 خلیفتہ المسیح الاول کے حالات زندگی ( قبل از خلافت) محمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم حضرت خلیفہ المسیح اول کی جائے پیدائش۔سن ولادت- خاندان- بچپن - ابتدائی تعلیم- سفرہند (لکھنو - رامپور میرٹھ۔دہلی۔بھوپال) (۱۸۴۱۰۴۲ء سے ۶۶-۱۸۶۵ء بمطابق ۱۲۵۸ھ سے ۱۲۸۲ھ تک جائے پیدائش زمانہ قبل از تاریخ سے جو شہر اب تک آباد ہیں ان میں (جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے) بھیرہ سب سے قدیم ہے۔کوئی شخص قطعی طور پر نہیں کہہ سکتا کہ اس کی بنیاد کب اور کس زمانہ میں پڑی؟ تاریخ میں اس کا نام سب سے پہلے سکندر اعظم کے حملے کے وقت آتا ہے جبکہ دریائے جہلم کے کنارے اس نے راجہ پورس کو شکست دی تھی۔عام طور پر کہا جاتا ہے کہ سکندر کی یورش کے وقت یہاں جنگل تھا جسے یونانی فوجوں نے پیرہ کہنا شروع کر دیا۔فوجی پڑاؤ سے یہاں ایک بستی آباد ہو گئی جو پیرہ کہلائی اور بالاخر بھیرہ کے نام سے یاد کی جانے لگی۔جنرل کننگھم نے " قدیم جغرافیہ ہند " (Ancient Geografy of India) میں بھیرہ کی قدامت کو تسلیم کیا ہے۔سکندر کے حملہ کے بعد جو ۳۲۷ ق م میں ہوا۔بھیرہ کا دوسری مرتبه نام مشهور چینی سیاح فاہیان کے سفر نامہ میں ملتا ہے جو پانچویں صدی عیسوی میں اس نے لکھا۔تیسری مرتبہ اس کا تذکرہ ساتویں صدی عیسوی میں آنے والے ایک اور چینی سیاح ہیون سانگ کے حالات سفر میں پایا جاتا ہے۔اسلامی تاریخ میں بھیرہ کا ذکر سلطان محمود غزنوی کے حملہ سے شروع ہوتا ہے۔جو اس نے ۱۰۰۴ء میں کیا۔اس کے بعد ۱۲۹۲ء میں بھیرہ پر مغل تاجداروں کے حملے شروع ہوئے۔امیر تیمور