تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 322
تاریخ احمد بیت - جلد ۳ 314 قادیان میں متعدد پبلک عمارتوں کی تعمیر جائے اور مبلغ دس روپے بطور امداد بھجوائے۔اخبار "الحق" نے آریوں میں تبلیغ کے علاوہ احمدیت کے بعض مخصوص مسائل مسئلہ ختم نبوت وغیرہ کی وضاحت کرنے میں بھی نمایاں کام کیا ہے۔ایک خاص چیز جو سلسلہ میں قیمتی اضافہ کا موجب بنی۔حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی کا سفرنامہ تھا جو اس میں بالاقساط چھپتا تھا۔حضرت میر صاحب آخر ۱۹۱۵ء میں دہلی سے قادیان ہجرت کر کے آگئے اور اخبار "الحق" فاروق کی شکل میں قادیان ہی سے شائع ہونے لگا۔سنگا پور اور سیلون میں تبلیغی وفد بھیجوانے کی تجویز جنوری ۱۹۱۰ء میں حضرت خلیفہ المسیح اول نے ملک سے باہر پیغام احمدیت پہنچانے کی تجویز فرمائی اور اس ضمن میں سنگا پور اور سیلون وغیرہ میں ایک تبلیغی وفد بھیجوانا چاہا مگر آپ کے زمانہ میں اس کی تکمیل نہ ہو سکی اور آپ کی مبارک آرزو خلافت ثانیہ میں پوری ہوئی۔فروری ۱۹۱۰ء سے حضرت حضرت صاحبزادہ صاحب کے درس قرآن کا آغاز صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ تعالیٰ نے بھی نماز مغرب کے بعد قرآن مجید کا درس دینا شروع فرمایا درس کیا تھا حقائق و معارف کا صاف و شفاف چشمہ تھا۔جو دل کی گہرائیوں سے پھوٹ پھوٹ کر لکھتا اور سامعین کی روحانی پیاس کو بجھاتا جاتا تھا وسط ۱۹۱۳ء سے آپ دو دفعہ درس دینے لگے (نجر اور ظہر کے بعد ) حضرت خلیفہ اول کے درس قرآن کے بعد قادیان کے روحانی تحفوں میں یہ ایک نعمت غیر مترقبہ تھی جسے حاصل کرنے کے لئے احمدی بڑے اشتیاق سے حاضر ہوتے تھے۔مسجد اقصیٰ کی توسیع اس سال کی پہلی سہ ماہی میں مسجد اقصیٰ کی توسیع بھی عمل میں آئی۔جس کے نتیجہ میں ایک بڑا کمرہ اور ایک لمبا بر آمدہ تیار ہو گیا۔مستورات کی نماز کے لئے زیر تعمیر " منارۃ المسیح " کے ساتھ ایک چبوترہ بھی بنا دیا گیا۔اس سال ۲۵ سے ۲۷/ مارچ ۱۹۱۰ ء تک سالانہ جلسہ منعقد ہونے والا تھا اور مسجد کے نچلے کمرہ میں مٹی ڈلوانے کے لئے مزدور فراہم نہیں ہو رہے تھے۔اور اندیشہ تھا کہ جلسہ تک یہ حصہ مکمل نہیں ہو سکے گا۔اس لئے حضرت خلیفہ اول نے 11 / مارچ ۱۹۱۰ء کو نماز جمعہ کے بعد تحریک فرمائی کہ احباب اس کام میں مدد کریں۔چنانچہ احباب جماعت اپنے مقدس امام کا ارشاد پاتے ہی مٹی کاٹنے اور ٹوکریاں اٹھانے میں مصروف ہو گئے خود حضرت خلیفہ اول نے بھی نہایت سرگرمی سے مٹی اٹھانا شروع کر دی