تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 321 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 321

تاریخ احمدیت - جلد ۳ 313 قادیان میں متعدد پبلک عمارتوں کی تعمیر سے تعلیم الاسلام کی عمارت بورڈنگ کی عمارت سے بھی زیادہ شاندار اور زیادہ جاذب نظر تیار ہوئی۔جس میں عام کمروں کے علاوہ سائنس روم اور وسیع ہال بھی تھا۔اور اس کی پیشانی پر برج بھی بنائے گئے اس عمارت پر ۳۰ ستمبر ۱۹۱۳ء تک قریباً پچاس ہزار روپیہ صرف ہوا۔جس میں ۱۶ کمرے ارد گرد بر آمدوں سمیت تیار ہوئے اور تھوڑا سا ہال بھی۔عمارت کی پہلی منزل کی تکمیل کے دوران میں روپیہ نہ ہونے کی وجہ سے بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔لیکن حضرت خلیفتہ المسیح نے پانچ ہزار روپیہ اپنی ذمہ داری پر بعض ذی استطاعت احباب سے لے کر عطا فرمایا۔جس سے فوری ضروریات پوری ہو گئیں۔چونکہ مدرسہ کی پرانی عمارت میں طلباء کی گنجائش نہ تھی۔اس لئے مئی ۱۹۱۳ء میں ہی سکول کو ادھوری عمارت میں لانا پڑا۔تعلیم الاسلام ہائی سکول کے لئے تمہیں ہزار روپیہ کے قریب گورنمنٹ سے گرانٹ ملی۔اخبار الحق کا اجراء 1909ء میں مکرم شیخ محمد یوسف صاحب نے اخبار " نور " جاری کیا۔اس سال حضرت میر قاسم علی صاحب نے دہلی سے ۷ / جنوری ۱۹۱۰ ء سے دوسرا اخبار نکالنا شروع کیا۔جس کا نام حضرت خلیفہ اول نے "الحق" تجویز فرمایا - اخبار "الحق" کے اہم اغراض و مقاصد یہ تھے (1) مخالفین اسلام کے عموماً اور دیا نندیوں کے خصوصاً اعتراضات کا جواب دیتا اور اسلام کی خوبیوں کا اظہار کرنا اور دیانندی تعلیم کے طلسم کو توڑنا (۲) مسلمانوں میں باہمی اتحاد و اتفاق بڑھانا اور اختلافات باہمی سے اجتناب (۳) حکومت وقت و رعایا کے تعلقات کو خوشگوار بناتا۔اخبار "الحق" نے آریوں اور دوسرے غیر مسلموں کے خلاف جہاد کی بدولت جلد ہی مسلمانان ہند میں شہرت حاصل کر لی۔1911ء میں حکومت نے پریس ایکٹ کے تحت ایک ہزار روپیہ کی نقد ضمانت طلب کی تو اسلامی پریس نے اس کے خلاف پر زور احتجاج کیا۔چنانچہ اخبار البشیر ، وکیل الاسلام لمت وقت مسلمان، زمیندار افغان وغیرہ اخبارات نے اس فیصلہ پر سخت تنقید کی۔مگر حکومت نے اپنا فیصلہ برقرار رکھا اور حضرت میر صاحب نے جو ایک دفعہ پہلے بھی پانچ سو روپیہ ضمانت جمع کر چکے تھے۔تین دن کے اندر اندر ایک ہزار روپیہ کی ضمانت داخل کرا دی۔اور "الحق " پھر سے جاری کر دیا۔حالا نکہ بڑے بڑے پرانے اخبار ضمانت طلب کئے جانے پر بند ہو گئے تھے۔۱۹۱۳ء کے آخر میں یہ اخبار خطرناک مالی بحران میں مبتلا ہو گیا۔تو حضرت خلیفتہ المسیح اول کی طرف سے بوساطت صاحبزادہ مرزا ! بشیر الدین محمود احمد ارشاد ملا کہ امیر المومنین پسند نہیں فرماتے کہ الحق بند کر دیا جائے اور یہ بھی فرمایا کہ ہم کچھ امداد بھی کریں گے خود حضرت صاحبزادہ صاحب نے میر صاحب کو لکھا کہ الحق ہرگز بند نہ کیا