تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 298
" تاریخ احمدیت۔جلد ۳ ۱۱۵۵ 290 درسہ احمدیہ کے سنگ بنیاد سے تمکین خلافت کے نشان تک ۱۵۸ ۵۹۳ روپے میں سے ۴۱۱ روپے پر تو ایک ٹائپ رائٹر ترجمتہ القرآن کے کام کے لئے خریدا گیا ہے اور باقی متفرق خرچ ہے "۔مئی ۱۹۱۳ء میں مولوی صاحب کو چھ ماہ کے لئے پہاڑ پر ایک چپڑاسی دے کر بھجوایا گیا تا وہ سکون کے ساتھ یہ کام جاری رکھ سکیں۔ضروری کتابیں بھی ساتھ بھیجوانے کا انتظام کیا گیا۔جنوری ۱۹۱۴ء میں مولوی محمد جی صاحب کو ان کی امداد کے لئے لگایا گیا۔غرضکہ مولوی صاحب موصوف کو صد را انجمن احمدیہ نے نہ صرف اس کام کے لئے فارغ کر کے معقول مشاہرہ دیا بلکہ اخراجات کی پروانہ کرتے ہوئے ہر ممکن سہولت ان کے لئے مہیا کی تب کہیں جا کر تین سال میں ترجمہ مکمل ہوا اور بعد ازاں اس پر نوٹ لکھنے کا کام شروع کیا۔چنانچہ صدر انجمن احمدیہ کی رپورٹ (۱۳۔۱۹۱۲ء) میں لکھا ہے۔" بڑا خرچ اس مد ( ترجمہ القرآن۔ناقل ) کا ایڈیٹر صاحب ریویو کی تنخواہ ہے۔جو سال زیر رپورٹ میں سارا وقت ترجمتہ القرآن کے کام کو ہی دیتے رہے ہیں۔ترجمہ تو مکمل ہو گیا ہے اب نوٹ لکھے جارہے ہیں۔اور اس کے بعد دیباچہ لکھا جائے گا۔جو امید ہے کہ آئندہ سال میں ختم ہو کر قرآن شریف کے دلایت چھپوانے کا انتظام انشاء اللہ ہو جائے گا"۔آخر جب نوٹ وغیرہ لکھنے کا کام کسی حد تک مکمل ہو گیا۔تو خواجہ کمال الدین صاحب نے از خودہی اخبار ”پیغام صلح" میں ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے چندہ دینے کی اپیل کی اور چندہ کی وصولی کے لئے اپنی طرف سے چار افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی۔جس کے ممبروں میں اپنے علاوہ مندرجہ ذیل لاہوری دوستوں کو نامزد کیا۔شیخ رحمت اللہ صاحب مالک انگلش ویئر ہاؤس۔ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب۔ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب۔حالانکہ انہیں اس بات کا قطعا کوئی حق نہیں تھا۔انگریزی ترجمہ قرآن لکھنے والے انجمن کے ملازم تھے اور انجمن فراخ دلی سے ان کے اخراجات برداشت کرتی آرہی تھی اسی لئے اشاعت کی ذمہ دار بھی وہی تھی۔اب ترجمہ کے نوٹ آخری مراحل پر تھے کہ حضرت خلیفہ اول کی وفات ہو گئی اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ منتخب ہوئے تو مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء نے آپ کی خلافت کو تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا۔صدر انجمن احمدیہ کے ملازم کی حیثیت سے ان کا فرض تھا کہ وہ ترجمہ قرآن کا مسودہ صد را انجمن احمدیہ کو (جس کے ہزاروں روپے ترجمہ قرآن کے لئے ان پر خرچ ہوئے تھے) واپس کر دیتے یا اس کی زیر نگرانی اس کی تعمیل کرتے مگر مولوی محمد علی صاحب نے جو پہلے ہی ترجمہ انگریزی کو اپنی ملکیت قرار دینے اور اس کے ذریعہ اپنی شہرت و نمائش کرنے کا منصوبہ بنا چکے تھے۔اس مصالحانہ اور دیانتدارانہ طریق سے ہٹ کر ایک دوسری راہ اختیار کی یعنی وہ انجمن کو چھ ماہ کی رخصت کی درخواست دے کر قادیان سے لاہور چلے گئے اور ساتھ ہی جاتے 109