تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 275 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 275

تاریخ احمدیت جلد ۳ 267 فتنہ انکار خلافت کا تفصیلی پس منظر باقی پانچ سو بھی لاتا ہوں۔نیز انجمن میں درخواست دی کہ یکصد روپیہ بیعانہ دیتے وقت جو میعاد قیمت حویلی کی ادائیگی کے لئے مقرر کی گئی تھی یعنی تین ماہ کی وہ بحال کی جاوے اور ریزولیوشن نمبر ۹۹۹ میں جو پندرہ روزہ معیاد مقرر کی گئی ہے۔وہ منسوخ کی جاوے۔اس درخواست کے بعد ۲۶ / ستمبر ۱۹۰۹ء کو انجمن کا اجلاس ہوا۔چونکہ قبل ازیں انجمن کے بعض ممبر بار بار لکھ رہے تھے کہ قوم کا روپیہ تباہ کیا گیا ہے۔اس لئے حضرت خلیفہ اول نے بھی ناراضگی میں ان کو لکھ دیا کہ اگر ایسا ہی ہے تو اب مدت گزر چکی ہے تم یہ فیصلہ موقوف کردو۔اتنے میں حکیم فضل الدین صاحب کا ایک عزیز آیا اور اس نے کہا کہ یہ دونوں چیزیں یعنی حویلی اور زمین ہمارے حوالہ کر دو۔اور دونوں چیزوں کی قیمت گیارہ ہزار پڑی۔اجلاس میں معاملہ پیش ہوا۔ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب نے کہا کہ ہم لوگ خدا کے حضور جواب دہ ہیں اور ٹرسٹی ہیں اور حضرت صاجزادہ صاحب سے پوچھا ہمیں کیا کرنا چاہئے۔آپ نے فرمایا کہ جب حضرت خلیفتہ المسیح اول فرماتے ہیں کہ اس شخص کو رعایت کریں تو ہمیں بھی اس کی رعایت کرنی چاہئے۔ڈاکٹر صاحب نے اس پر کہا کہ حضرت نے تو اجازت دے دی ہے جب خط سنایا گیا تو آپ کو اس سے صاف ناراضگی کے آثار معلوم ہوئے اور آپ نے کہا کہ یہ خط تو ناراضگی پر دلالت کرتا ہے نہ کہ اجازت پر اس پر ڈاکٹر صاحب نے ایک لمبی تقریر کی جس میں خشیتہ اللہ اور تقوی اللہ کی آپ کو تاکید کرتے رہے آپ نے بار بار یہی جواب دیا کہ آپ جو چاہیں کریں میرے نزدیک تو یہی رائے درست ہے چونکہ باقی سارے ممبران کے ہم نوا تھے اس لئے کثرت رائے سے اپنی منشاء کے مطابق فیصلہ کیا جس کے مختصر الفاظ یہ تھے کہ درخواست سید زمان شاہ برائے توسیع میعاد نا منظور ہے پندرہ یوم کی معیاد ان کو دی گئی تھی انہوں نے حسب منشاء فیصلہ انجمن روپیہ دے کر رجسٹری نہیں کرائی۔سید زمان شاہ کا روپیہ واپس دیا جائے۔ازاں بعد ممبران انجمن حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں پہنچے۔اور بتایا کہ یہ فیصلہ سب کے مشورہ سے ہوا ہے۔اور صاحبزادہ صاحب بھی اس میں موجود تھے۔حضرت خلیفہ اول نے حضرت صاحبزادہ صاحب کو طلب فرمایا۔آپ تشریف لے گئے۔حضرت خلیفہ اول نے فرمایا۔کیوں میاں اہمارے حکموں کی اس طرح خلاف ورزی کی جاتی ہے؟ آپ نے عرض کیا کہ میں نے تو صاف کہہ دیا تھا کہ اس امر میں حضرت خلیفتہ المسیح کی مرضی نہیں اس لئے اس طرح نہیں کرنا چاہئے۔اور آپ کی تحریر سے اجازت نہیں بلکہ ناراضگی ٹپکتی ہے یہ سن کر حضرت خلیفہ اول نے ممبران انجمن سے فرمایا۔کہ دیکھو تم اس کو بچہ کہا کرتے ہو یہ بچہ میرے خط کو سمجھ گیا۔اور تم لوگ اس کو نہ سمجھ سکے پھر بہت کچھ تنبیہہ بھی کی۔اور فرمایا اطاعت میں ہی برکت ہے اپنا رویہ بدلو ورنہ خدا تعالٰی کے فضلوں سے محروم ہو جاؤ گے۔مگر AA