تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 271 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 271

تاریخ احمدیت جلد ۳ 263 فتنہ انکار خلافت کا تفصیلی پس منظر بات تمہارے متعلق نہیں۔خواجہ کمال الدین صاحب نے بیعت کے وقت (جسے بعد میں انہوں نے خواجہ صاحب کا اقرار بیعت ارشاد سے موسوم کر لیا ) صاف لفظوں میں یہ اقرار کیا کہ میں آپ کا حکم بھی مانوں گا اور آنے والے خلیفوں کا حکم بھی مانوں گا"۔کے بعد مولوی محمد علی خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب نے اس بیعت صاحب کا ایمان سوز مظاہرہ وقت بیعت اطاعت تو کر لی مگر یہ بیعت ہی بالخصوص مولوی محمد علی صاحب کے دل میں حضرت خلیفہ اول کے خلاف بغض و عناد اور عداوت و دشمنی کے شراروں کو اور زیادہ بھڑ کانے کا موجب بن گئی۔چنانچہ مولوی محمد علی صاحب اپنے اس اندرونی غیظ و غضب کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔" حضرت مولوی صاحب نے ہمیں یہ کہا کہ تمہیں میری اطاعت کرنی ہوگی اور میری زندگی میں اس سوال کو نہ اٹھانا ہو گا۔اگر چاہو تو اس کے متعلق مشورہ کر کے مجھے جو اب دو تو ہم نے فورا یہ کہا کہ کسی مشورہ کی ضرورت اس کے لئے نہیں۔اور آپ بیعت کا حکم دیتے ہیں تو ہم بیعت بھی کرتے ہیں۔بایں ہمہ مجھے رنج ضرور تھا۔اس لئے کہ حضرت مولوی صاحب نے ہماری تحریروں پر اعتماد کیا اور جو کچھ ہمارے خلاف ان کے کان بھرے گئے اسے ایک حد تک درست سمجھ کر ہمیں ان لوگوں میں شامل کیا جو فتنہ کے اصل موجد تھے کیونکہ دوبارہ بیعت لینے سے یہ ضرور ظاہر ہو تا تھا کہ ہم چاروں نے گویا اس فتنہ کو اٹھایا ہے حالانکہ اس کو اٹھانے والے میر محمد اسحاق اور شیخ یعقوب علی اور دیگر اہل بیت تھے۔اور اس طرح فتنہ پردازوں میں شامل کئے جانے کو اپنی ذلت بھی ضرور سمجھا۔اور ایک بے گناہ کو لا ز ماریج ہوتا ہے۔جب اسے گناہ گاروں میں شامل کیا جائے اسی رنج کا اظہار میں نے اپنے خاص احباب سے بھی کیا"۔اس کا اظہار کس رنگ میں کیا اس کی تفصیل یہ ہے کہ مسجد کی چھت سے اترتے ہی انہوں نے خواجہ صاحب سے کہا کہ آج ہماری سخت ہتک کی گئی ہے۔میں اس کو برداشت نہیں کر سکتا۔ہمیں مجلس میں جوتیاں ماری گئی ہیں۔اور اپنے کمرہ میں آکر خواجہ کمال الدین صاحب کو بھی ملامت کی کہ تم نے ہی پہلے خلیفہ بنانے کی کوشش کی۔پھر تم نے ہمیں ذلیل کرایا اور بیعت کرائی۔خواجہ صاحب قریباً ایک ہفتہ تک مولوی محمد علی صاحب کے پاس رہے اور ان کے سمجھانے کی کوشش کرتے رہے مگر ان کا جوش بڑھتا ہی گیا۔حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم اس وقت ان لوگوں سے خاص تعلق رکھتے تھے اور LA