تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 260 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 260

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 252 فتنہ انکار خلافت کا تفصیلی پس منظر سے اور بعض دوسرے ممبر مولوی محمد علی صاحب کی خدمات کے اثر سے ان کے ہمنوا تھے۔ان وجوہ سے مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب کو انجمن میں زبر دست اکثریت حاصل ہو گئی تھی اور سارا اقتدار انہی کے ہاتھ میں چلا گیا تھا جس کا اقرار مولوی محمد علی صاحب نے بھی کیا ہے - Com لنگر خانہ پر قبضہ کرنے کی کوشش خواجہ صاحب۔مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقا گو انجمن کے سب ہی حالات پر اقتدار جما چکے تھے۔مگر لنگر خانہ " کا انتظام ابھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ میں تھا۔اس لئے وہ چاہتے تھے کہ اس پر بھی قبضہ کر لیں چنانچہ اس کے لئے انہوں نے پہلا قدم یہ اٹھایا کہ بعض مہمانوں کے سامنے لنگر خانہ کی مفروضہ بد انتظامیوں کا رونا رونا شروع کیا۔چنانچہ اس سلسلہ میں خواجہ کمال الدین صاحب نے لدھیانہ کے احمدی بابو محمد صاحب کو باغ میں لے جا کر سنانا شروع کیا کہ میر ناصر نواب صاحب مالیوں کو یوں روٹیاں دیتے ہیں اور باغ کے کتوں کو یوں گوشت دیا جاتا ہے۔میر صاحب کا نام خاص طور پر انہوں نے اس لئے لیا کہ ان سے پرانا رنج تھا بابو صاحب نے کہا کہ آپ لوگ اس کو روکتے کیوں نہیں ؟ تو خواجہ صاحب نے ماتھا پیٹ کر کہا کہ اگر ہم کہیں تو پھر کچھ بھی کام نہیں کر سکتے۔اور اگر کہہ سکتے تو بات ہی کیا تھی یہ تو آپ جیسے بزرگوں کا کام ہے اور اسی وجہ سے آپ کا ذکر کیا ہے تب بابو محمد صاحب نے وعدہ کیا کہ میں ضرور اس کا ذکر کروں گا۔چنانچہ اس پر انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں خط لکھا جس میں خواجہ صاحب کے عندیہ کے مطابق اسراف کا الزام لگایا اور تجویز رکھی کہ بھی روپیہ انجمن کے سپرد ہونا چاہئے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اس خط کے جواب میں کھلا خط شائع کیا کہ " مجھے وہ لوگ چندہ دے سکتے ہیں جو اپنے بچے دل سے مجھے خلیفتہ اللہ سمجھتے ہیں اور میرے تمام کاروبار خواہ ان کو سمجھیں یا نہ سمجھیں ان پر ایمان لاتے اور ان پر اعتراض کرنا موجب سلب ایمان سمجھتے ہیں میں تاجر نہیں کہ کوئی حساب رکھوں۔میں کسی کی کمیٹی کا خزانچی نہیں کہ کسی کو حساب دوں۔میں بلند آواز سے کہتا ہوں کہ ہر ایک شخص جو ایک ذرہ بھی میری نسبت اور میرے مصارف کی نسبت اعتراض دل میں رکھتا ہے اس پر حرام ہے کہ ایک کوڑی بھی میری طرف بھیجے مجھے کسی کی پرواہ نہیں جبکہ خدا مجھے بکثرت کہتا ہے گویا ہر روز کہتا ہے کہ میں ہی بھیجتا ہوں جو آتا ہے اور کبھی میرے مصارف پر وہ اعتراض نہیں کرتا تو دوسرا کون ہے جو مجھ پر اعتراض کرے۔ایسا اعتراض آنحضرت ا پر بھی تقسیم اموال غنیمت کے وقت کیا گیا تھا۔سو میں آپ کو دوبارہ لکھتا ہوں کہ آئندہ سب کو کہدیں کہ تم کو اس خدا کی قسم ہے جس نے تمہیں پیدا کیا۔اور ایسا ہی ہر ایک جو اس خیال میں ان کا شریک ہے کہ ایک حسبہ بھی میری طرف کسی سلسلہ کے لئے کبھی اپنی عمر تک ارسال