تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 259
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 251 فتنہ انکار خلافت کا تفصیلی پس منظر اس وقت میرے سامنے ان لوگوں نے حضرت صاحب کو دھوکہ دیا کہ حضرت ہم نے مولوی صاحب کو پریذیڈنٹ بنایا ہے۔اور پریذیڈنٹ کی رائیں پہلے ہی زیادہ ہوتی ہیں۔حضرت صاحب نے کہا ہاں یہی میرا منشاء ہے کہ ان کی رائیں زیادہ ہوں۔مجھے اس وقت انجمنوں کا علم نہ تھا کہ کیا ہوتی ہیں در نہ بول پڑتا کہ پریذیڈنٹ کی ایک ہی زائد رائے ہوتی ہے۔تو انہوں نے یہ دھوکا دیا۔پھر تفصیلی قواعد مجھے ہی دئے گئے تھے اور میں ہی حضرت صاحب کے پاس لے کر گیا تھا۔اس وقت آپ کوئی ضروری کتاب لکھ رہے تھے۔آپ نے پوچھا کیا ہے۔میں نے کہا انجمن کے قواعد ہیں۔فرمایا۔لے جاؤ۔ابھی فرصت نہیں ! گویا آپ نے ان کو کوئی وقعت نہ دی۔ممبران انجمن کی حضرت خلیفہ اول اور مولوی محمد علی صاحب کا ابتدائی انجمنوں کے زمانہ سے حضرت مولوی نور الدین صاحب اور خاندان مسیح موعود سے پرانی رقابت خاندان حضرت مسیح موعود خصوصاً حضرت میر ناصر نواب صاحب سے اختلاف چلا آتا تھا۔چنانچہ حجتہ اللہ حضرت نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کو ٹلہ اپنی خود نوشت ڈائری میں لکھتے ہیں: ۱۷/ نومبرا۔۔۔۔۔۔۔مولوی محمد علی صاحب سے تخلیه میں مدرسہ کے متعلق گفتگو ہوئی انہوں نے اس جھگڑے کو مٹانے کے لئے اپنی علیحدگی کی پسندیدگی ظاہر کی جس سے معلوم ہو تا تھا کہ مولوی نور الدین صاحب کا کمیٹی میں ہونا ان کو پسند نہیں "۔اور یہ ناپسندیدگی اس درجہ بغض کی حد تک پہنچی ہوئی تھی کہ آپ کئی دفعہ قادیان چھوڑنے کے لئے تیار ہو گئے تھے۔چنانچہ مولانا سرور شاہ صاحب فرماتے ہیں۔" آپ بہت زد و رنج اور مغلوب الغضب تھے۔آپ کئی بار معمولی معمولی باتوں پر اس قدر جوش میں آئے کہ قادیان اور اپنے دار ہجرت کے چھوڑنے پر اور حضرت مسیح موعود اور خلیفتہ المسیح کی بابرکت صحبت سے جدا ہونے پر تیار ہو گئے تھے اور اس کا یہ اثر تھا کہ حضرت خلیفتہ المسیح سے مدرسہ کی کمیٹی کے زمانہ میں رنج ہوا تو آخر تک اس رنج کو نہ چھوڑا۔اسی طرح اہل بیت مسیح کا حال " - ایک دفعہ مولوی محمد احسن صاحب امرد ہوی سے آپ الجھ پڑے تو قادیان چھوڑنے کے لئے تیار ہو گئے۔قادیان سے جانے کا تیسری مرتبہ فیصلہ مولوی صاحب نے اس وقت کیا جب کہ حضرت میر ناصر نواب صاحب سے مسجد مبارک کے معاملہ میں نزاع ہو گیا۔انجمن میں خواجہ صاحب کے حامیوں کی اکثریت انجمن کے متعدد ممبر خواجہ صاحب کے گہرے دوستوں میں