تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 245 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 245

237 تاریخ احمدیت جلد ۳ احمد بیت میں نظام خلافت کا آغاز ۶۵۔حیات ناصر صفحه ۲۵- سیرت ام المومنین حصہ اول ۲۱۴-۲۱۵ قادیان گائیڈ صفحہ ۷۷-۸۷۔اصحاب احمد جلد دہم صفحہ ۱۷۔احکم ۲۱/۲۸ فروری ۱۹۱۱ء صفحہ ۵ کالم ۳۔ناصر آباد کے بعض ابتدائی مکینوں کے نام یہ ہیں۔حافظ احمد اللہ خان صاحب سید فضل شاہ صاحب میاں نظام الدین صاحب میر خیر الدین صاحب عبد الستار صاحب نو مسلم۔حافظ محمد ابراہیم صاحب حافظ محمد امین صاحب مولوی نظام الدین صاحب مبلغ کشمیر سید حسن شاہ صاحب " قادیان گائیڈ صفحه (۸۸) ٦٦ الحکم ہے۔۱۲ مئی 1999 صفحہ و کالم سے ۶۷۔یہ تو حضرت خلیفتہ صحیح اول بیلہ کی رائے ہے مگر ڈاکٹر بشارت احمد صاحب اور ان کی ہمنوائی میں مولفان "مجاہد کبیر " کا خیال یہ ہے کہ میر صاحب کے ان سفروں اور کوششوں میں دار الضعفاء کے چندے تو محض بہانہ تھا دراصل ان کے ذریعہ سے مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب کو بد نام کر کے میاں محمود احمد صاحب کی خلافت کے لئے راہ صاف کیا جا رہا تھا۔اناللہ خواجه وانا اليه راجعون الملاحظہ ہو پیغام صبح کے ار دسمبر ۱۹۳۸ء صفحه ۲۱- و "مجاہد کبیر ص ۱۰۱ خواجہ صاحب وغیرہ کو بدنام کرنے کی بنیاد اس شعر پر رکھی جاتی ہے جو ان کے سفر نامہ میں ہے کہ کا تھا وہاں لیکچر پر نہ مسرور میں ہوا شکر (سفر نامیہ صفحہ اسلام حالانکہ اگلے شعروں میں مسرور نہ ہونے کی وجہ یہ بتائی ہے کہ اس لیکچر میں مجھے پہنچنے کا موقعہ نہیں ملا۔چنانچہ فرماتے ہیں:۔صاحب ہمسری مجھ کو کوئی جو جوانوں میں مجھے کو لے جاتا دیکھتا میں بھی محفل شبان پڑھا ہوتا جوانوں سمان پھر خواجہ صاحب کو میرا "مخنور " کہکر لکھتے ہیں:۔لوگ کہتے تھے خوب یکچر خوب بولا مرا محور بھائیوں کو خوشی ہوئی شکر خواجه உ بات کو سن کر وعظ بب تمام ہوا خواب صاحب کا خوب نام ہوا خواجہ صاحب کے وعظ کو سننے کی تلقین فرماتے ہیں:۔میں تسکین اگر لوگ اور تعصب کا 235 ہور کے روگ مارے تے فسار ہویں 133 احمدی بھائی ہوں کوئی نتا نہیں ہماری بات کس قدر جور و بدر ۱۸/ جون ۱۹۰۸ء صفحه ۴ کالم ۴ -۱۹ مرقع قادیانی تمبر۔اکتوبر ۱۹۰۸ء صفحہ ۳ کالم ۱-۲- سرور ظلم ہے بیات (سفر نامہ صفحہ ۳۱) ۷۰ الحکم ۲/ اگست ۱۹۰۸ء صفحه ۱۳ ۳۰/۲۶ اگست ۱۹۰۸ء شیخ صاحب حضرت مسیح موعود کی زندگی میں ہی اشاعت کے لئے عہد کر چکے تھے۔(بدر۳۰/ جولائی ۱۹۰۸ء صفحہ۱) ا انعام ۲۶/ اگست ۱۹۰۸ء صفحہ ۲ و ریکار ڈ صد را انجمن ۱۹۰۸ء صفحہ ۱۲۱۔۷۲ اکتوبر ۱۹۰۸ء کا ریکارڈصد را منجمن احمدیہ صفحہ ۱۱۵۔۷۳۔حیات قدری ۷۳ ریکار ڈ صد را انجمن احمد یہ ۱۹۰۸ء صفحہ ۱۵۵۔۷۵ - ریکارڈ صدر انجمن احمدیه ۱۹۰۸ء صفحہ ۱۵۵۔حضرت خلیفہ اول نے ایک مرتبہ ان کی کسی درخواست سفر خرچ پر رقم فرمایا۔اصل بات یہ ہے کہ اللہ فی الله و بالله واعظوں کی ضرورت ہے اور اللہ تعالٰی مخلصانہ و عظوں کو ہر گز ضائع نہیں کرتا۔مگر اس طرح روپیہ مقررہ دے کر وعظ کا مزہ مجھے تو آتا ہی نہیں۔" ( ریکار ڈ صد را مجمن احمدیہ ۱۹۰۸ء صفحه ۳۵۰)