تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 238
تاریخ احمدیت جلد ۳ 230 ا نظام خلافت کا آغاز حرمتی دیکھی تو آپ کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا۔اور یوں معلوم ہوا جیسے یہ لوگ احمدیت کو دفن کر رہے ہیں۔آپ کی طبیعت میں زبردست جوش پیدا ہوا اور آپ نے فرمایا میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔جماعت کو ساری کی ساری اس وقت اس طرف مائل تھی کہ مدرسہ احمد یہ توڑ دینا چاہئے۔لیکن ان سب نے انا ماشاء اللہ بیک آواز کہا۔ہاں ہاں ہو لئے۔غالبا وہ سمجھتے تھے کہ آپ اس بات پر اور زور دیں گے کہ وظیفے دئے جائیں۔خواجہ کمال الدین صاحب نے کہا آپ آگے آجا ئیں میں ذرا اپنی بات ختم کر لوں پھر کہا کہ آپ آگے آجا ئیں۔مگر آپ نے وہیں کھڑے کھڑے دس بارہ منٹ ایک ی تقریر فرمائی جس میں کہا۔کہ آپ نے جو کچھ فیصلہ کیا ہے یہ آپ کے خیال میں ٹھیک ہو گا مگر ایک چیز ہے جو میں آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ ہمارے کام آج ختم نہیں ہو جائیں گے۔بلکہ سینکڑوں اور ہزاروں سال تک ان کا اثر چلتا چلا جائے گا۔اور دنیا کی نگاہیں ان پر ہوں گی۔اور اگر ہم کسی کام کو چھپانا بھی چاہیں گے۔تو وہ نہیں چھپے گا۔بلکہ تاریخ کے صفحات پر ان واقعات کو نمایاں حروف میں لکھا جائے گا۔اس نقطہ نگاہ کو مد نظر رکھتے ہوئے میں آپ کی توجہ اس امر کی طرف پھیرنا چاہتا ہوں کہ رسول کریم جب مرض الموت سے بیمار ہوئے تو آپ نے اپنی وفات سے کچھ دن پہلے ایک لشکر رومی حکومت کے مقابلہ کے لئے تیار کیا اور حضرت اسامہ بن زید کو اس کا سردار مقرر فرمایا۔ابھی یہ لشکر روانہ نہیں ہوا تھا کہ رسول کریم ﷺ کی وفات ہو گئی اور سوائے مکہ اور مدینہ اور طائف کے سارے عرب میں بغاوت رو نما ہو گئی۔اس وقت بڑے جلیل القدر صحابہ نے مل کر مشورہ کیا کہ اس موقعہ پر اسامہ کا لشکر باہر بھیجنا درست نہیں۔کیونکہ ادھر سار ا عرب مخالف ہے۔ادھر عیسائیوں کی زبر دست حکومت سے لڑائی شروع کر دی گئی تو نتیجہ یہ ہو گا کہ اسلامی حکومت در ہم پر ہم ہو جائے گی۔چنانچہ انہوں نے ایک وفد حضرت ابو بکر صدیق کی خدمت میں روانہ کیا۔اور درخواست کی کہ یہ وقت سخت خطر ناک ہے اگر اسامہ کا لشکر بھی عیسائیوں کے مقابلہ کے لئے چلا گیا۔تو مدینہ میں صرف بچے اور بوڑھے رہ جائیں گے اور مسلمان عورتوں کی حفاظت نہیں ہو سکے گی۔اے ابو بکر ا ہم آپ سے التجا کرتے ہیں کہ آپ اس لشکر کو روک لیں۔اور پہلے عرب کے باغیوں کا مقابلہ کریں۔جب ہم انہیں دبالیں گے تو پھر اسامہ کے لشکر کو عیسائیوں کے مقابلہ کے لئے روانہ کیا جاسکتا ہے اور چونکہ اب مسلمان عورتوں کی عزت اور عصمت کا سوال بھی پیدا ہو گیا ہے اور خطرہ ہے کہ دشمن کہیں مدینہ میں گھس کر مسلمان عورتوں کی آبروریزی نہ کرے اس لئے آپ ہماری اس التجا کو قبول فرماتے ہوئے جیش اسامہ کو روک لیں اور اسے باہر نہ جانے دیں۔حضرت ابو کر میں ٹین کی عادت تھی کہ جب وہ اپنی عاجزانہ حالت کا اظہار کرنا چاہتے تو اپنے آپ کو