تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 234
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 226 احمدیت میں نظام خلافت کا آغاز سید سرور شاہ صاحب۔جناب مولوی محمد علی صاحب قائم کی جاتی ہے۔مولوی محمد علی صاحب اس کے سیکرٹری ہوں گے اس سب کمیٹی کا یہ کام ہو گا۔کہ مدرسہ دینی کے لئے روپیہ فراہم کرے۔ur ای تاریخ کا دوسرا فیصلہ: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات پر بالفعل حسب ذیل قواعد لنگر خانہ کے متعلق تجویز کئے جاتے ہیں۔جن کو حضرت مولانا مولوی نور الدین صاحب خلیفہ المسیح نے منظور فرمایا ہے۔" ای تاریخ کا تیرا فیصلہ۔جن لوگوں کو لنگر خانہ سے کھانا ملتا ہے۔ان کے متعلق حکم حضرت خلیفہ المسیح کا قطعی ہو گا"۔(۲۶ جولائی ۱۹۰۸ء) درخواست مولوی محمد علی صاحب کہ مدرسہ دینیہ کی رپورٹ سب کمیٹی مجوزہ سے ۱۵/ اگست تک مانگی گئی ہے۔لیکن اس میں سرمایہ کا سوال ضروری ہے۔جس کے واسطے کافی وقت چاہئے۔لہذا کم اکتوبر تک معیاد زیادہ کی جائے پیش ہو کر قرار پایا کہ منظور -110 << " حضرت خلیفہ صاحب تشریف لے گئے اور مجلس بصدارت جناب صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب جاری رہی۔HA (۲۸ / جولائی ۱۹۰۸ء) سیکرٹری صاحب کی درخواست پر حضرت خلیفہ صاحب۔۔۔۔۔۔کی جائداد کے بہہ کرانے میں منظور کئے گئے " ۵ (۳۰/ اگست ۱۹۰۸ء) حضرت خلیفہ صاحب نے ارشاد فرمایا۔اہل بیت کے خرچ کے واسط۔۔۔منظور کئے جاتے ہیں۔" ۲ (۱۵/ نومبر ۱۹۰۸ء) رپورٹ محاسب کہ ڈاکٹر محمد شریف صاحب۔۔۔۔۔۔ما هوار کا مستقل وظیفه دیتے ہیں پھر وہ مشورہ حضرت مولوی صاحب بالا بالا کسی طالب علم کو ملتا رہا ہے لیکن اب مناسب ہے کہ وہ با قاعدہ خزانہ صدر انجمن میں داخل ہو کر بلوں سے اسی طالب علم کو ملا کرے۔جسے انجمن دینا منظور کرے پیش ہو کر قرار پایا کہ تجویز محاسب صاحب منظور -114" Ļ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ ۱۳۰ مئی سے ۱۵/ نومبر ۱۹۰۸ء تک کے اجلاسوں کے چند فیصلہ جات ہیں خط کشیدہ عبارت سے اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں ہے کہ ابتداء میں وہ انجمن جو اجلاس کے انعقاد کے لئے ” خلیفتہ المسیح " کی اجازت خاص کو ضروری سمجھتی تھی اسی طرح " تقر ر واعطین " اور لنگر خانہ سے متعلق آپ