تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 224
تاریخ احمدیت 216 احمدیت میں نظام خلافت کا آغاز کرتے ہیں امید ہے کہ مرزا صاحب کے راسخ مرید جی کھول کر اس میں چندہ دیں گے کہ آخر کار یہ مدرسہ ہمارا ہو گا اور مرزائی خیال عنقریب نیا منسیا ہو کر اڑ جائے گا۔" واعظین سلسلہ کا تقرر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ مبارک میں انجمن کی طرف سے باقاعدہ کوئی واعظ تبلیغ سلسلہ کے لئے مقرر نہ تھے مگر اب خلافت اوٹی کے شروع میں ہی اس کی پوری شدت سے ضرورت محسوس ہوئی اور خود حضرت خلیفتہ المسیح کی طرف سے اس کی تحریک ہوئی۔اس سلسلہ میں حضرت خلیفہ اول کی اجازت سے انجمن نے سب سے پہلے شیخ غلام احمد صاحب نو مسلم کو اور بعد ازاں مولوی محمد علی صاحب سیالکوٹی۔حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی اور حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی کو واعظ مقرر کیا ان کے بعد بعض اور واعظ مثلا الہ دین صاحب فلاسفر بھی نامزد ہوئے۔واعظ اول شیخ غلام احمد صاحب کے تقریر کا واقعہ ذرا تفصیل سے ذکر کرنا موجب دلچسپی ہو گا۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب تراب نے صدرانجمن احمدیہ میں درخواست بھیجی کہ ان کو واعظ مقرر کیا جائے صدر انجمن نے اپنے اجلاس منعقدہ ۳۰/ مئی ۱۹۰۸ء میں فیصلہ کیا کہ چونکہ تقرر واعطین حضرت خلیفہ المسیح کے ہاتھ میں ہے اس لئے شیخ یعقوب علی صاحب کو لکھا جائے کہ وہ تحریری درخواست حضرت امام کی خدمت میں بھیج دیں۔حضرت خلیفتہ المسیح نے اس کی منظوری دیتے ہوئے ہدایت فرمائی کہ بڑے شہروں کی نسبت زیادہ تر چھوٹے چھوٹے دیہات میں جانا چاہئے۔اور تھوڑا تھوڑا دودو تین تین میل کا سفر روز کریں اور اسباب اٹھوانے کے لئے ان کے پاس آدمی ہو۔گاؤں کے لوگ مدد کر سکتے ہیں یا ٹو کر لیا کریں۔مطلب یہ ہے کہ گاؤں کے لوگوں کو اللہ اکبر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی آواز پہنچ جائے اور موسم سرما کے ابتداء تک اس طرح آپ ایک ضلع کو ختم کر سکتے ہیں۔بدر (۳۰/ جولائی ۱۹۰۸ء صفحہ ) سے معلوم ہوتا ہے کہ شیخ صاحب یکم اگست ۱۹۰۸ ء سے تبلیغ کے لئے روانہ ہوئے تھے اور اس پہلے دورہ میں امرتسر سے حیدر آباد تک جانے کا پروگرام تھا ان کے گھر کے اخراجات حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے برداشت کئے اور سفر خرچ انجمن کی طرف سے ملا شیخ صاحب کے بعد مولوی محمد علی صاحب سیالکوٹی کا تقرر عمل میں آیا۔آپ پنجابی زبان کے مشہور شاعر بھی تھے۔ان کو ابتداء جموں- پونچھے۔وزیر آباد گوجرانوالہ وغیرہ کے شہروں اور دیہات میں بھجوایا گیا ان ابتدائی واعطین کے فرائض میں چندہ کی فراہمی اور نئی انجمنوں کا قیام بھی ہو تا تھا۔حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی بھی عہد خلافت کے اولین واعظوں میں سے تھے۔آپ پنجابی زبان کے بڑے عمدہ واعظ تھے اور زبان میں بڑی تاثیر تھی۔اس زمانہ میں حافظ صاحب نے بڑا کام کیا ہے۔