تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 223
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 215 احمدیت میں کلام خلافت کا آغاز دار الضعفاء غرباء کے لئے رہائشی مکانات کاملمنا سخت مشکل ہو رہا تھا آپ نے بہشتی مقبرہ کے ساتھ دار لضعفاء کا ایک حصہ آباد کر دیا۔اس محلہ کی بنیاد حضرت خلیفتہ المسیح اول نے 1911ء میں رکھی۔حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے ۲۲ مکانات کے لئے زمین عطا فرمائی۔پہلا مکان حضرت خلیفہ اول کے خرچ پر بنا۔آج کل یہ محلہ ناصر آباد کے نام سے موسوم ہے ۱۹۱۳ء میں آپ نے ناصر آباد میں مسجد بھی تعمیر کرا دی اور اس کے ساتھ ایک کنواں بھی بنوا دیا۔حضرت خلیفتہ المسیح اول نے ان ہی خدمات کے باعث انہی دنوں اپنے قلم سے ایک خط لکھا کہ مکرم معظم حضرت میر صاحب السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ۔آپ کے کاموں اور خواہشوں کو دیکھ کر میری خواہش بھی ہوتی ہے اور دل میں بڑی تڑپ پیدا ہوتی ہے کہ جس طرح آپ کے دل میں جوش ہے کہ شفاخانہ۔زنانہ۔مردانہ۔مسجد اور دار الضعفاء کے لئے چندہ ہو۔اور آپ ان میں بچے - - ۶۵ دل سے سعی و کوشش فرمارہے ہیں اور بحمد اللہ آپ کے اخلاص صدق وسچائی کا نتیجہ نیک ظاہر ہو رہا ہے اور ان کاموں میں آپ کے ساتھ والے قابل شکر گزاری سے پر جوش ہیں ہمارے اور کاموں میں سعی کرنے والے ایسے ہی پیدا ہوں۔و ما نالك على الله بعزيز - " حضرت مسیح موعود کی یادگار میں حضرت خلیفتہ المسیح اول کے دل میں خلافت کے دینی مدرسہ کے لئے تحریک ابتدائی ایام میں ہی یہ تحریک اٹھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یادگار میں اعلیٰ پیمانہ پر ایک دینی مدرسہ قائم کیا جائے جس میں واعطین اور مبلغین تیار کئے جائیں ۱۹۰۵ء میں ایک "شاخ دینیات "مدرسہ تعلیم الاسلام کے ساتھ قائم تھی۔مگر غالبا ننڈ کی کمی کی وجہ سے اس کی حالت نہات درجہ ناقص تھی۔لہذا حضرت خلیفہ اول کے حکم سے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب۔حضرت نواب محمد علی خان صاحب۔حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب نے یہ تحریک پوری جماعت کے سامنے رکھی اور بتایا کہ اعلیٰ پیمانہ پر مدرسہ چلانے کے لئے عمدہ مکان اور بہترین لائبریری کا ہونا ضروری ہے یہ مدرسہ دنیا میں اشاعت اسلام کا ایک بھاری ذریعہ ہو گا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عظیم الشان یادگار بھی لہذا دوستوں کو اس کے لئے پوری پوری مالی قربانی کرنی چاہئے۔نیز لکھا۔اگر کسی کے دل میں یہ خیال پیدا ہو کہ یہ بڑے بھاری اخراجات ہیں۔اور قوم ان اخراجات کے بوجھ کو برداشت نہ کر سکے گی۔تو یہ ایک کمزری کا خیال ہو گا " مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے اس تحریک کی اشاعت پر " مرقع قادیانی" میں یہ تبصرہ کیا کہ خلیفہ نورالدین نے حکم دیا ہے کہ مرزا کی یادگار میں دینی مدرسہ قائم کیا جائے ہم اس مدرسہ کی تائید "