تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 218 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 218

یت - جلد ۳ 210 احمدیت میں نظام خلافت کا آغاز ہے اچھی اچھی نوکریوں والے بھی نہیں خریدتے مگر مجھے اس وقت بھی یہ شوق تھا اس رقم سے جو بھی گزارہ کے لئے ملتی تھی۔اپنی علمی ترقی کے لئے اور مطالعہ کے لئے کتابیں بھی خرید تا رہتا تھا اور کافی ذخیرہ میں نے جمع کر لیا تھا " - انجمن کے گزارہ کے بعد کس طرح خدا تعالٰی نے اپنے ایک دوسرے الہام کے مطابق خاندان مسیح موعود علیہ السلام کے لئے خود ان کی ذاتی قابلیت اور جائداد کے ذریعہ تائید و نصرت کے دروازے کھول دئے ؟ اس کا ذکر بھی حضرت سید نا محمود ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے قلم مبارک سے کرتا ہوں۔فرماتے ہیں:۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد والدہ مجھے بیت الدعامیں لے گئیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہاموں والی کاپی میرے سامنے رکھ دی اور کہا میں سمجھتی ہوں یہی تمہارا سب سے بڑا ورثہ ہے۔میں نے ان الہامات کو دیکھا تو ان میں ایک الہام آپ کی اولاد کے متعلق یہ درج تھا۔حق اولاد در اولاد۔اسی طرح ایک اور الہام درج تھا۔جو منذر تھا۔اور اس کے نیچے لکھا تھا کہ جب میں نے یہ الہام محمود کی والدہ کو سنایا تو وہ رونے لگ گئیں میں نے کہا کہ تم یہ الہام مولوی نور الدین صاحب کے پاس جا کر بیان کرو۔انہوں نے محمود کی والدہ کو تسلی دی۔اور کہا کہ یہ العام منذر نہیں بلکہ مبشر ہے۔حق اولاد در اولاد کے معنے در حقیقت یہی تھے کہ وہ حق جو باہر سے تعلق رکھتا ہے یعنی زمینوں اور جائیدادوں وغیرہ میں حصہ یہ کوئی زیادہ قیمتی نہیں۔زیادہ قیمتی یہ چیز ہے کہ میں نے تمہاری اولاد کے دماغوں میں وہ قابلیت رکھ دی ہے کہ جب بھی یہ اس قابلیت سے کام لیں گے دنیا کے لیڈر ہی بنیں گے اور یہ وہ ورثہ ہے۔جو ہم نے تمہاری اولاد کے دماغوں میں مستقل طور پر رکھ دیا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں بعد میں جو کچھ ملا۔حق اولاد در اولاد کی وجہ سے ہی ملا۔اور میں نے جتنے کام کئے اپنی دماغی اور ذہنی قابلیت کی وجہ سے ہی کئے مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد ایک دن ہمارے نانا جان والدہ صاحبہ کے پاس آئے اور کہا کہ میں کب تک بڑھا ہو کر بھی تمہاری خدمت کرتا رہوں گا اب تمہاری اولاد جوان ہے اس سے کام لو۔اور زمینوں کی نگرانی ان کے سپرد کرد والدہ نے مجھے بلایا اور رجسٹر مجھے دے دئے۔۔۔میں ان دنوں قرآن اور حدیث کے مطالعہ میں ایسا مشغول تھا کہ جب زمینوں کا کام کرنے کے لئے مجھے کہا گیا تو مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کسی نے مجھے قتل کر دیا ہے۔مجھے یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ جاندار ہے کیا بلا اور وہ کس سمت میں ہے۔مغرب میں ہے یا مشرق میں۔شمال میں ہے یا جنوب میں۔میں نے زمینوں کی لٹیں اپنے ہاتھ میں لے لیں اور افسردہ شکل بنائے گھر سے باہر نکلا مجھے اس وقت یہ