تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 217
جلد 209 احمدیت میں نظام خلافت کا آغاز آپ فوت ہو گئے بعض۔نے تحریک کی کہ آپ مطالبہ کریں کہ جو چندے آتے ہیں وہ چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طفیل ہی آتے ہیں اس لئے ان میں سے ہمارا حصہ مقرر ہونا چاہئے۔میں اس وقت بچہ تھا مگر یہ مشورہ مجھے اتنا برا معلوم ہوا۔کہ میں نے کمرہ کے باہر شملنا شروع کر دیا کہ جو نہی مجھے موقعہ ملے میں والدہ سے اس کے متعلق بات کروں اور جب موقعہ ملا۔میں نے کہا کہ یہ چندے کیا ہماری جائیداد تھی۔یہ تو خد اتعالیٰ کے دین کے لئے ہیں۔ان میں سے حصہ لینے کا کسی کو کیا حق ہے؟ پھر بعض لوگ ایسے تھے کہ جو یہ مشورہ کر رہے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے لئے گزارہ مقرر کرنا چاہئے۔چنانچہ ایک دوست نے مجھ سے آکر کہا کہ ہم نے یہ تجویز کی ہے کہ آپ کو گزارہ دیا جائے۔میں نے کہا کہ ہم اس کے لئے تیار نہیں ہیں۔ہم بندوں کے محتاج کیوں ہوں۔اس وقت ہماری جائداد بھی پراگندہ حالت میں تھی۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی طرف توجہ نہ کی تھی۔اور بظاہر گزارہ کی صورت نظر نہ آتی تھی۔مگر میرے نفس نے یہی کہا کہ جو خدا انتظام کرے گا اسی کو منظور کروں گا۔بندوں کی طرف کبھی توجہ نہ کروں گا۔میرا جواب سن کر اس دوست نے کہا کہ پھر آپ لوگوں کے گزارہ کی کیا صورت ہوگی۔میں نے کہا کہ اگر اللہ تعالٰی کا منشاء زندہ رکھنے کا ہو گا۔تو وہ خود انتظام کر دے گا۔اور اگر اس نے مارنا ہے تو وہ موت زیادہ اچھی ہے جو اس کے منشاء کے ماتحت ہو۔گویا میں نے یہ دونوں صورتیں رد کر دیں۔حصہ والی تجویز تو شرعاً ناجائز تھی۔مگر میں نے دوسری صورت کو بھی منظور نہ کیا۔۔۔آخر حضرت خلیفتہ المسیح اول نے مجھے بلایا اور کہا ہم آپ لوگوں کو اپنے پاس سے کچھ پیش نہیں کرتے۔بلکہ خود حضرت مسیح موعود کا الہام ہے جس کے ماتحت میں نے گزارہ کی تجویز کی ہے۔اور الہام میں رقم تک مقرر ہے۔اب سوال انسانوں کا نہ رہا بلکہ خدا تعالیٰ کے دین کا آگیا اس لئے میں نے اس امر کو منظور کر لیا۔جو گزارہ مقرر ہو اوہ ہمارے لئے تو خدا تعالی کے فضل سے کافی تھا گو اس زمانہ میں ہمارے بچے بھی اس میں گزارہ نہیں کر سکتے۔مجھے اس وقت ساٹھ روپے ملتے تھے۔جن میں سے میں دس روپے ماہوار تو شعمید پر خرچ کرتا تھا۔سود بچے تھے بیوی تھی۔اور کو کوئی خاص ضرورت تو نہ تھی مگر خاندانی طور طریق کے مطابق ایک کھانا پکانے والی اور ایک خادمہ بچوں کے رکھنے اور اوپر کے کام میں مدد دینے کے لئے میری بیوی نے رکھی ہوئی تھی۔سفر اور بیماری وغیرہ کے اخراجات بھی اس میں سے تھے۔پھر مجھے کتابوں کا شوق بچپن سے ہے جس وقت میری کوئی آمد سوائے اس کے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کپڑوں کے لئے مجھے دیا کرتے تھے نہ تھی۔تب بھی میں کتب خرید تا رہتا تھا۔بلکہ اس سے پہلے جب کہ کاپیوں کاغذ قلم وغیرہ کے لئے مجھے تین روپے ماہوار ملا کرتے تھے۔اس میں سے بھی بچا کر کتابیں خرید تا رہتا تھا اب تو میں نے دیکھا