تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 211
تاریخ احمدیت جلد ۳ 203 احمدیت میں نظام خلافت کا آغاز شخص کے لئے موجب فکر و تشویش ہو سکتا ہے جسے اگلے جہان میں اپنے اعمال کی فکر ہو۔مگر وہ شخص معصوم خدا کی درگاہ میں واپس آجاتا ہے نہیں بلکہ اس کا عزیز مہمان اور پیارا دوست بن کر جاتا ہے۔اس کے انتقال پر ہم کو رشک کرنا چاہئے۔دوسری بات جو ہم کو اس واقعہ پر پیش آئی ہے۔وہ یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے ہمارا صبر اور ہماری استقامت اس ابتلا کے موقعہ پر آزمانا چاہتا ہے۔ایک ہمار ا سب سے پیارا اس جہان سے رحلت فرما ہوا ہے اگر ایسی حالت اور ناگہانی صدمہ کے وقت انسان شدت غم میں خدا تعالی کی حدود سے باہر نہ جاوے دل پر جو رنج گزرتا ہے وہ فطری ہے مگر کثرت ہموم کے وقت کسی ایسی بات کا ہو جانا ممکن ہے جو خدا کی نظر میں نا پسندیدہ ہو۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا ۸ سال کی تھیں جب رسول خدا ﷺ نے وفات پائی انہوں نے اور آپ کی اور ازواج نے جو نمونہ آپ کی وفات کے وقت دکھلایا دہ قابل تقلید نمونہ ہے تم بھی اس فرقہ کی عورتوں کے لئے نمونہ ہو۔احتیاط رکھنی چاہئے کہ ایسے موقعہ پر جب کہ مردوں کے چھکے چھوٹے ہوئے ہیں کوئی ایسی بات نہ ہو۔جس کی تقلید کر کے آئندہ امت کی عورتیں کوئی بری رسم اختیار کریں۔تمہارے افعال تمہارے اقوال تمہاری باتیں آئندہ کے لوگ سند پکڑیں گے۔پس اللہ تعالی کی رضا میں تمہاری ہر بات ہو اور کوئی نمونہ ایسا نہ چھوڑ جاؤ جس پر قیامت تک کسی کی حرف گیری ہو جماعت احمدیہ کے لئے یہ ایک سخت ابتلا ہے پہلے وہ ایک بے فکر کی طرح تھے اور نام کے مددگار تھے۔اب ان کو معلوم ہو گا کہ کتنا بڑا کام وہ شخص اکیلا کر تا رہا۔میرا ایمان ہے کہ اگر یہ فرقہ سچ ہے اور یقینا سچ پر ہے تو خدا تعالیٰ اس کو ہر طرح کی ہلاکت سے بچالے گا۔اور ہر دشمن کی دشمنی سے محفوظ رکھے گا۔اور اسے دنیا کے اطراف میں پھیلا دے گا۔وہ شخص تو اپنا کام پورا کر گیا۔بلکہ وصیت بھی ایک چھوڑ دو دفعہ چھوا دی تھی اور لوگوں پر تبلیغ پوری ہو چکی تھی اور یہ ایک دن آنے والا باقی تھا۔سو آگیا۔مگر وہ دن بھی خدا کا نشان ہو کر آیا۔اور دو پیشگوئیوں کو پورا کر گیا۔یعنی ایک تو الہام انتقال کے متعلق الرحيل ثم الرحيل والا اور مباش ایمن از بازی روزگار اور دوسرے وہ پرانا اور بار بار ہونے والا الهام داغ ہجرت یعنی ہجرت اور وطن کی جدائی میں رحلت ہو گی۔غرض خدا کے بندے مرتے مرتے بھی اپنا خدا کی طرف سے ہونے کا ثبوت دے جاتے ہیں۔اور ان کی ذات تو ایسی تھی کہ ان کا مرنا جینا سب خدا کی مرضی اور اس کی فرمانبرداری میں تھا مگر ہم کو بھی جو پسماندگان رہ گئے ہیں ایسا ہی نمونہ دکھانا چاہئے۔جس میں خدا تعالیٰ کی مرضی پر سر رکھ دینے اور رضا، نقضا ہونے کی خود ہمارے دل گواہی دے دیں۔آپ مجھ سے بڑی ہیں اور سب باتوں سے مجھ سے زیادہ واقف ہیں اور مجھے ایسا