تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 204
تاریخ احمد بیت - جلد ۳ 196 احمدیت میں کلام خلافت کا آغاز بین نہیں الارم یه کی که نرمی سلطنت کا سر تاہم نیکو صبے کرتا ہے اور نہیں ہماری سخت پسندید سناتا ہے۔ندات ایزوی نے کی بنای گئی ہے کم ہو کر ہم تو خود کس آدمی میں انکی بی برا جماعتین تو نئے سلطان ور جماعت این لیکن پھر - باری باری نے حاکم کے سامنے ہم پیش کراہت یا نخر پہلی جماعت کے سامنے پیش ہروہ بسر کردگی مولوی محمد علی کی گئی ہم کره سلطانی سریا ہوتے۔کیا بہر یہ سمجھ آئی کہ نئے فرمان روان کچھ مولوی محمد علی خواب اور ان کے ہمرائیوں کو کہا انہوں نے موٹر ے سکتے سرتسلیم خم کیا۔اور چوستی ہی باہر آگئے۔اسکے بعد گھر حکم ہوا۔- دیگر ہمراہ بھی چا رہا ہ ہم اجاب باقی گھر۔اور وہ میری سرکردگی میں پر ہو۔- اکرے جب مین کره سلطانی کے اندر داخل ہوا وا تو کیا دیکھ بون که پینا حاکم خود واری نور الویز جناب ہیں۔آپنے نہایت در ممکنت سے کے ساتھ مہر اور مریر ہمراہیوں کو دیکھا مانت اور - سید ہر حسب زیب گفتگو مشتری را انداز خواب کی تیز کیا۔- مور نے دی ہے۔تم جانتے ہو کہ تم کون ہو اور تمہاری حیثیت اوقت کیا مین که اي خوب جانتا مون کو چین خاندان شاہی کے ہم رکن تھے وہ اسوقت دور بدل گیا۔اور ہم اکران سلطان ہیں۔