تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 196
تاریخ احمدیت جلد ۳ 188 احمدیت میں کلام خلافت کا آغاز مولوی محمد علی صاحب کو قائل کرنے کے بعد خواجہ صاحب صدرانجمن احمدیہ کے دوسرے اکابر مثلاً شیخ رحمت اللہ صاحب۔ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب۔ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب کو لے کر نواب محمد علی خان صاحب کے پرانے مکان پر پہنچے اور شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کے ذریعہ سے مولوی محمد احسن صاحب امروہی کو بھی بلوا بھیجا۔اور پوچھا کہ جس طرح آنحضرت ا کی تکفین و تدفین سے قبل صحابہ نے حضرت صدیق اکبر کے ہاتھ پر بیعت کرلی تھی۔اسی طرح ہم حضرت مولوی نور الدین صاحب کے ہاتھ پر بیعت کرلیں۔مولوی صاحب نے اس کی پوری پوری تائید کی۔نیز مشورہ دیا کہ حضرت میاں بشیر الدین محمود احمد صاحب سے مشورہ کر لینا ضروری ہے۔چنانچہ حضرت صاحبزادہ صاحب باغ سے بلوائے گئے۔آپ نے نہایت کشادہ پیشانی سے اتفاق رائے کرتے ہوئے کہا کہ حضرت مولوی صاحب سے بڑھ کر کوئی نہیں اور خلیفہ ضرور ہونا چاہئے اور حضرت مولوی صاحب ہی خلیفہ ہونے چائیں ورنہ اختلاف کا اندیشہ ہے۔اور حضرت اقدس کا الہام ہے کہ اس جماعت کے دو گروہ ہوں گے ایک کی طرف خدا ہو گا اور یہ پھوٹ کا ثمرہ (ہے) اس کے بعد یہ حضرات باغ میں پہنچے۔اور حضرت میر ناصر نواب صاحب سے دریافت کیا۔انہوں نے حضرت مولوی نور الدین صاحب ہی کی خلافت کی تائید کی۔ازاں بعد خواجہ کمال الدین صاحب جماعت کے نمائندہ کی حیثیت سے حضرت ام المومنین کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے بھی یہی فرمایا کہ حضرت مولوی صاحب موصوف سے بڑھ کر کون اس کے قابل ہو سکتا ہے کہ حضرت اقدس علیہ السلام کا جانشین ہو۔چنانچہ اہل بیت سے مشورہ اور تسلی بخش جواب کے بعد خواجہ صاحب حضور کے دوسرے ساتھیوں کو لے کر حضرت مولوی نور الدین صاحب کی خدمت میں گول کمرہ میں حاضر ہوئے۔اور مناسب رنگ میں بیعت خلافت کے لئے عرضداشت کی۔آپ نے کچھ تامل کے بعد فرمایا۔" میں دعا کے بعد جواب دوں گا۔چنانچہ پانی منگوایا گیا۔آپ نے وضو کیا اور غربی کوچہ کے متصل دالان میں (اور مفتی صاحب کی روایت کے مطابق ) نواب صاحب کے مکان میں جہاں مولوی شیر علی صاحب کے دفتر کا کمرہ تھا۔نماز نفل پڑھی اور سجدہ میں گر کر بہت روئے اس عرصہ میں یہ وفد باہر صحن میں انتظار کرتا رہا۔نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ نے فرمایا کہ چلو ہم وہیں چلیں جہاں ہمارے آقا کا جسد اطہر ہے۔اور جہاں ہمارے بھائی انتظار میں ہیں۔چنانچہ حضرت مولوی صاحب تمام حاضرین سمیت باغ میں تشریف لے گئے۔اس وقت حضور کی نعش مبارک باغ ہی میں رکھی تھی۔اور سب لوگ اس کے ارد گرد جمع تھے۔یہاں حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے کھڑے ہو کر تمام جماعت کی طرف سے ایک تحریر پڑھی جس میں آپ کی خدمت میں بیعت کی درخواست تھی