تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 195
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 187 احمدیت میں نظام خلافت کا آغاز بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم حصہ دوم (پہلا باب) حضرت حکیم نورالدین صاحب خلیفہ المسیح اول کی خلافت پر قوم کا اجماع ۲۷ مئی ۱۹۰۸ء تا ۳۱ دسمبر ۱۹۰۸ ء بمطابق جمادی الاولی ۱۳۲۶ھ سے ذی الحجہ ۱۳۲۶ھ تک) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے معابعد جماعت کے سامنے سب سے پہلا اور اہم مسئلہ جو پیش آیا وہ آپ کے خلیفہ کا انتخاب تھا۔پوری جماعت کی نگاہیں خدائی تصرف کے تحت ابتداء ہی سے حضرت مولوی نور الدین صاحب کی طرف اٹھ رہی تھیں مخالفین تک پہلے ہی سے آپ کو مرزا صاحب کا خلیفہ قرار دیتے تھے۔مگر ظاہری اور مادی نقطہ نگاہ سے پوری قوم کو خلافت تلے جمع کرنے کی منتظم اور جماعتی سطح پر تحریک اٹھانے کا سہرا خواجہ کمال الدین صاحب پلیڈ ر سیکرٹری انجمن احمدیہ کے سر ہے جنہوں نے ۱۲۷ مئی ۱۹۰۸ء کو حضرت اقدس کی نعش مبارک کے قادیان پہنچتے ہی باغ میں بیعت خلافت کے لئے مولوی محمد علی صاحب کو تحریک کی۔اور ذکر کیا کہ یہ تجویز ہوئی ہے کہ "حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جانشین حضرت مولوی نور الدین صاحب ہوں "۔مولوی محمد علی صاحب نے کہا۔بالکل صحیح ہے اور حضرت مولوی صاحب ہی ہر طرح سے اس بات کے اہل ہیں خواجہ صاحب نے کہا۔یہ بھی تجویز ہوئی ہے کہ سب احمدی ان کے ہاتھ پر بیعت کریں۔مولوی محمد علی صاحب نے کہا۔"اس کی کیا ضرورت ہے جو لوگ نئے سلسلہ میں داخل ہوں گے انہیں بیعت کی ضرورت ہے اور یہی الوصیت کا منشاء ہے "۔خواجہ صاحب نے جواب دیا کہ چونکہ وقت بڑا نازک ہے ایسا نہ ہو کہ جماعت میں تفرقہ پیدا ہو جائے اور احمدیوں کے حضرت مولوی صاحب کے ہاتھ پر بیعت کر لینے میں کوئی حرج بھی نہیں۔اس پر مولوی صاحب بھی بیعت کے لئے رضامند ہو گئے۔te "