تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 175
تاریخ احمد بیت جلد ۳ 171 آغاز اجرت سے حضرت مسیح موعود کے وصال مبارک تک سال ۱۹۰۷ ء میں آپ نے اس میں نحوی قواعد کا اضافہ کر کے شائع فرمایا۔اور اس کا نام مبادی الصرف مو النحور کھا گیا۔حضرت مسیح موعود کی ہدایت ۱۹۰۷ء کے اوائل کی بات ہے کہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب ایڈیٹر اخبار بدر قارئین کے اشتیاق کے پیش نظر اپنے اخبار میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت مولوی صاحب اور سلف صالحین کے فرمودات کی روشنی میں ایک سلسلہ تفسیر شروع کرنا چاہتے تھے۔چنانچہ انہوں نے یہ معالمہ حضور علیہ السلام کی خدمت میں رکھا تو حضور نے تحریر فرمایا۔السلام علیکم بہت بہتر ہے اس سے لوگوں کو نفع پہنچتا ہے مگر ضروری ہے کہ مولوی صاحب کو دکھلا لیا کریں تاکہ غلطی نہ ہو جاوے۔والسلام مرزا غلام احمد " جلسہ عید الاذہان کی صدارت قادیان میں احمدی نوجوانوں کی طرف سے ان دنوں جس قدر مجالس یا تنظیمیں قائم ہو ئیں۔انجمن ہمدرد اسلام ، مجمع الاخوان ، شمعید الا زبان وغیرہ ان سب میں آپ کی تقاریر ہوتی تھیں۔خصوصاً آخر الذکر مجلس سے آپ کو بڑی دلچسپی تھی کیونکہ اس کے صدر آپ کے محبوب آقا کے جگر گوشہ۔۔۔سیدنا محمود ایدہ اللہ الودود بنصرہ العزیز تھے۔عبد الکریم صاحب حیدر آبادی کے لئے اجتمائی دعا عبدالکریم صاحب حیدر آبادی میں (جن کو سنگ دیوانہ نے کاٹ لیا تھا اور جو بعد میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی معجزانہ دعا سے صحت یاب ہوئے اور عرصہ تک زندہ رہے) جب بیماری کے آثار ظاہر ہو گئے تو حضرت مسیح موعود نے کسی طالب علم کے ہاتھ مولوی صاحب کو دوا بھیجی اور کہلا بھیجا کہ یہ اسے پلائی جائے۔حضرت مولوی صاحب اس وقت مسجد اقصیٰ میں درس قرآن دے رہے تھے۔دوران درس ہی آپ نے حاضرین سے فرمایا۔کہ دیکھو خدا کے مامور میں کس قدر خلقت اللہ پر شفقت ہے۔پھر فرمایا مجھے اس بچے کے لئے سخت اضطراب ہے ایسا درد ہے کہ میں تم کو سبق نہیں پڑھا سکتا۔اس کے بعد آپ نے درد دل کے ساتھ اس طالب علم کے لئے اجتماعی دعا کرائی۔ترجمہ قرآن کے پہلے پارہ کی اشاعت حضرت مولوی صاحب کے قسم کا ترجمہ قرآن اور حضرت مسیح موعود کا مکتوب جس کی قوم کو مدت سے انتظار تھی۔اس کا پہلا پاره شیخ عبدالرشید صاحب مالک مطبع احمدی