تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 174 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 174

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 170 آغاز ہجرت سے حضرت مسیح موعود کے وصال مبارک تک ۲۷ / اکتوبر ۱۹۰۶ء کو حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب کا خطبہ نکاح آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لخت جگر حضرت مرزا شریف احمد صاحب کا نکاح حضور کی موجودگی میں پڑھا۔اور حقائق و معارف سے لبریز خطبہ دیا فرمایا۔”ہماری خوش قسمتی ہے کہ خدا نے ہمارے امام کو بھی آدم کہا ہے۔اور بث منهما رجالا کثیرا کی آیت ظاہر کرتی ہے کہ اس آدم کی اولاد بھی دنیا میں اسی طرح پھیلنے والی ہے۔میرا ایمان ہے کہ بڑے خوش قسمت وہ لوگ ہیں جنکے تعلقات اس آدم کے ساتھ پیدا ہوں۔کیونکہ اس کی اولاد (میں) اس قسم کے رجال اور نساء پیدا ہونے والے ہیں جو خدا تعالیٰ کے حضور میں خاص طور پر منتخب ہو کر اس کے مکالمات سے مشرف ہوں گے۔زبان پر تصرف الہی سے کلمات حدیث جاری ہونا نومبر ۱۹۰۶ء کی بات ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے خواجہ کمال الدین صاحب پلیڈ رہائیکورٹ نے عرض کیا کہ حضور ! سعد اللہ لدھیانوی کے ابتر رہنے والے الہام کی اشاعت نہ کی جائے مگر حضور نے الہام الہی کے چھپانے سے صاف انکار فرما دیا اور زور دار لفظوں میں کہا کہ یہ پیش گوئی پوری ہو کے رہے گی اور فتح ہماری ہو گی۔اس مجلس میں حضرت مولوی صاحب بھی تشریف فرما تھا کہ یکا یک آپ کی زبان مبارک پر حدیث رب اشعث اغبر جاری ہو گئی۔چنانچہ حضور خود فرماتے ہیں۔فسمع كلا مى بعض زبدة المخلصين - الفاضل الجليل فى علم الدين اعنى محبنا المولوى الحكيم نور الدين - فجرى على لسانه حديث رب اشعث أغبرر اطمئن القلوب بقولي و قوله " ترجمہ۔جو نمی میری یہ بات میرے مخلص ترین دوست اور علوم دینیہ میں فاضل جلیل مولوی حکیم نور الدین صاحب نے سنی تو آپ کی زبان پر حدیث رب اشعث اغبر الخ جاری ہو گئی اس طرح میری اور ان کی بات سے سب کے دل مطمئن ہو گئے۔اور عجیب بات یہ ہے کہ یہی الفاظ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوئے چنانچہ اس الہام پر تھوڑا ہی عرصہ گذرا تھا کہ ۴/ جنوری کی شب کو لدھیانہ سے تار آگیا کہ سعد اللہ ابتری کی حالت میں فوت ہو گیا ہے۔مبادی الصرف کی تالیف و اشاعت اسی سال آپ نے صرف کے ابتدائی قواعد " مبادی العرف" کے نام سے شائع فرمائے۔اگلے