تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 173 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 173

تاریخ احمدیت جلد ۳ 169 آیا ز ہجرت سے حضرت مسیح موعود کے وصال مبارک تک ہر ایک شخص جو اس قبرستان میں مدفون ہونا چاہتا ہے وہ اپنی حیثیت کے لحاظ سے ان مسارف کے لئے چندہ داخل کرے۔۔۔بالفعل یہ چندہ اخویم مکرم مولوی نورالدین صاحب کے پاس آنا چاہیئے۔اوائل فروری ۱۹۰۶ء میں انجمن کار پرداز مصالح صد رانجمن احمدیہ کے پریذیڈنٹ قبرستان اور دوسرے شعبوں کو مدغم کر کے صدر انجمن احمدیه " واحد تنظیمی ادارہ معرض وجود میں آیا۔تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت مولوی صاحب ہی کو اس کا پریذیڈنٹ مقرر فرمایا۔A اور ارشاد فرمایا کہ ”مولوی صاحب کی ایک رائے انجمن میں سورائے کے برابر سمجھنی چاہئے۔۸۵۱ دینیات کا پہلا رسالہ لڑکوں اور لڑکیوں کو مسائل نماز سے عام فہم الفاظ میں واقف کرنے کے لئے آپ نے جنوری ۱۹۰۶ء میں ”دینیات کا پہلا رسالہ " شائع فرمایا جو بہت مقبول ہوا۔اور اس سال اس کا دوسرا ایڈیشن شائع کرنا پڑا۔ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی نے (جو اپنے اس عقیدہ کی وجہ سے ڈاکٹر عبد الحکیم مرتد کے نام خط را برید که نجات کا دارومدار صرف ایمان توحید و قیامت پر ہے۔جماعت سے خارج کئے جاچکے تھے) آپ کی خدمت میں ایک خط لکھا۔جس کے جواب میں آپ نے ایک مفصل مکتوب اس کے نام بھجوایا جس میں اس کے عقائد فاسدہ کی خوب قلعی کھولی اور لکھا۔" آپ نے تیرہ کروڑ مسلمانوں پر رحم فرمایا۔اور ذکر کیا ہے کہ تیرہ سو سال میں یہ تیرہ کروڑ مسلمان تیار ہوئے ہیں۔سب کو نجات حاصل کرنا چاہئے۔۔۔۔دوارب اللہ کے بندے اس وقت موجود ہیں۔تیرہ کرو ڑ اگر محمد رسول اللہ ال کے باعث تیار ہوئے ہیں تو دوارب اللہ کی مخلوق اور ڈارون کے طریق سے لاکھوں برس اور معلوم نہیں کہ کب سے وہ تیار ہوئے ہیں ان سب نے اگر نجات نہ پائی تو تیرہ کر در چیز ہی کیا ہے۔اور ایک آیت ما یو من اكثر هم بالله الا وهم مشركون قرآن میں موجود ہے۔۔۔۔تیرہ کروڑ مسلمانوں میں سے اس آیت کے بموجب اکثر مشرک ہوں گے اور مشرک نجات نہیں پاسکتا۔پھر یہ تیرہ سو سال میں تیار ہوئے اور ان میں سے اکثر مشرک نکلے اور مشرک کو نجات نہیں۔آخر میں اسے نصیحت کی کہ۔اگر امام صاحب کے حضور شوخی کرنے سے پہلے مجھ سے براہ راست آپ خط و کتاب کرتے تو مجھے بہت پیارے الفاظ بولنے کا موقعہ ملتا۔مگر محبوب پر سخت کلامی کو ایک محب فطر نا پسند نہیں کر سکتا اور وہ معذور بھی ہے۔" Ae