تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 163
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 159 آغاز ہجرت سے حضرت مسیح موعود کے وصال مبارک تک کہتا ہے کہ اس کا علاج ہلدی اور ایک اور چیز ہے آپ نے یہ خبر قبل از وقت انوار الاسلام “ میں شائع فرما دی۔” چنانچہ اس خبر کے عین مطابق ۱۵ / فروری ۱۸۹۹ء کو میاں عبدالحی صاحب پیدا ہوئے۔حضرت مولوی نور الدین صاحب فرماتے ہیں: " میرا لڑکا عبدالحی آیت اللہ ہے محمد احمد مر گیا تھا۔لدھیانہ کے ایک معترض نے اس پر اعتراض کیا۔میں نے اس لدھیانوی معترض کی تحریر کا کچھ بھی لحاظ نہ کیا اور اس پر کوئی توجہ نہ کی مگر میرے آقا د امام نے اس پر توجہ کی تو اس کو وہ بشارت ملی جو انوار الاسلام کے صفحہ ۲۶ پر درج ہے اور پھر اس کے چند برس بعد یہ بچہ جس کا نام عبد الحی ہے۔پیدا ہوا۔کشف کے مطابق اس کے جسم پر بعض پھوڑے نکلے جس کے علاج میں میری طبابت گرد تھی عبدالحی کو ان پھوڑوں کے باعث سخت تکلیف تھی اور وہ ساری رات اور دن بھر تڑپتا اور بے چین رہتا۔جس کے ساتھ ہم کو بھی کرب ہو تا۔مگر ہم مجبور تھے کچھ نہ کر سکتے تھے۔ان پھوڑوں کے علاج کی طرف بھی اس کشف میں ایما تھا اور اس کی ایک جزو ہلدی تھی۔اور اس کے ساتھ ایک اور دوا تھی جو یاد نہ رہی تھی ہم نے اس کے اضطراب اور کرب کو دیکھ کر چاہا کہ ہلدی لگا ئیں۔آپ نے کہا کہ میں جرات نہیں کر سکتا۔کیونکہ اس کا دوسرا جز و یاد نہیں مگر ہم نے غلطی کھائی اور ہلدی لگادی۔جس سے وہ بہت ہی تڑپا اور آخر ہم کو وہ دھونی پڑی۔اس سے ہمارا ایمان تازہ ہو گیا کہ ہم کیسے ضعیف اور عاجز ہیں کہ اپنے قیاس اور فکر سے اتنی بات نہیں نکال سکے اور یہ مامور اور مرسلوں کی جماعت ایک مشین اور کل کی طرح ہے جس کے چلانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہوتا ہے۔بغیر اس کے بلائے یہ نہیں بولتے۔غرض میرا ایمان ان نشانوں سے بھی پہلے کا ہے اور خدا کا فضل ہے کہ اس نے ہم کو نشان کے بغیر نہ چھو ڑا سینکڑوں نشان دکھا دیے۔مولوی کرم الدین آف بھین کا خط مولوی کرم دین الدین صاحب آف بھین (ضلع جہلم) جو بعد میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بد ترین معاندوں کی صف اول میں آگئے ابتداء میں گو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی کو تو صحیح نہیں سمجھتے تھے مگر ان کو آپ سے کوئی دشمنی بھی نہ تھی اور ان کا خیال تھا کہ ” مرزا صاحب کا ادعا مہدویت ایسا ہی ہے جیسے سابق ان کے بہت سے لوگوں نے ادعا کئے ہیں چنانچہ بعض مدعی مہدویت ایسے بھی گزرے ہیں جو بڑے ولی اور جامع کمالات ہوئے ہیں اور ان سے ایسا ادعا غلبہ سکر عرفان الہی اور دورہ حالت عرفانیہ کے سرزد ہوا۔یہ مولوی صاحب اپنے نظریہ پر قائم تھے کہ انہوں نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی