تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 162
تاریخ احمدیت - جلد ۳ 158 آغا ز ہجرت سے حضرت مسیح موعود کے وصال مبارک تک ۱۸۹۷ء میں چھپی ہوئی موجود ہے اور مطالعہ کے قابل ہے۔الحکم کا قادیان سے اجراء ۲۰ فروری ۱۸۹۸ء سے قادیان سے اخبار الحکم لکھنا شروع ہوا۔تو حضرت مولوی نور الدین صاحب اس اخبار کے خصوصی قلمی معاونین میں سے ایک تھے آپ کے درس۔لیکچر۔جلسے۔فتاوی۔مضامین۔خطوط اور دوسرے ملفوظات اس میں بڑی کثرت سے شائع ہوتے اور دلچسپی ، اضافہ معلومات اور ایمان کی ترقی کا موجب بنتے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلمات طیبات کے بعد اخبار کی جان اور روح رواں ہوتے تھے۔انجمن ہمد ردان اسلام میں لیکچر قادیان میں چھوٹے بچوں کی ایک انجمن ہمدردان اسلام تھی جس کے سیکرٹری بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی تھے حضرت مولوی صاحب ہمیشہ بچوں سے مشفقانہ سلوک کرتے اور ان کی تعلیم و تربیت کا خیال رکھتے تھے آپ گا ہے گا ہے اس مجلس میں بھی تشریف لاتے اور بچوں کو اپنی پیاری پیاری باتیں سناکران میں خاص جلا پیدا کیا کرتے تھے۔2 مقدمہ حفظ امن کے لئے سفر گورداسپور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے حضرت سیح موعود علیہ السلام پر حفظ امن کا مقدمہ دائر کر رکھا تھا جس میں پہلی پیشی کے لئے حضور ۱۴ جنوری ۱۸۹۹ء کو گورداسپور تشریف لے گئے۔مقدمہ کی دوسری پیشی کے لئے حضور کو تاریخ ۲۸/ جنوری ۱۸۹۹ء دھاریوال کا سفر اختیار کرنا پڑا۔حضرت مولوی نور الدین صاحب حسب دستور ان ہر دو سفروں میں حضور کے ہمرکاب تھے۔گورداسپور سے واپسی پر آپ نے اسٹیشن پر بعض عمائد و حکام کے سامنے صداقت مسیح موعود پر ایک مختصری تقریر بھی فرمائی اور اپنے بعض حیرت انگیز تجربات و مشاہدات بھی بیان کئے دھار یوال میں نہر کے کنارے نماز جمعہ آپ ہی نے پڑھائی اور خطبہ میں قرآن مجید کے معارف ایسے موثر انداز میں بیان فرمائے کہ لوگوں پر محویت طاری ہو گئی ایسا معلوم ہو تا تھا کہ آسمان سے قلوب پر فرشتوں کا نزول ہو رہا ہے۔نماز میں خلقت کا بڑا ہجوم تھا۔ولادت میاں عبد الحی صاحب حضرت مولوی نور الدین صاحب کے ہاں ابھی تک کوئی اولاد نرینہ نہ تھی۔ایک بیٹا محمد احمد فوت ہوا تو ایک لدھیانوی معترض نے ہنسی اڑائی جس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ۱۸۹۴ء میں محمد احمد کا ایک نتم البدل بچہ عطا کئے جانے کی بشارت ملی اور خواب میں بتایا گیا کہ اس بچہ کے بدن پر پھنسیاں ہیں اور کوئی