تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 161
تاریخ احمدیت جلد ۳ 157 آغاز ہجرت سے حضرت مسیح موعود کے وصال مبارک تک پڑھتے تھے۔مولوی بدرالدین صاحب ہی نے فردوگاہ کا انتظام کیا تھا۔ملتان کے ہر طبقہ کے لوگ حضور کے پاس حاضر ہوتے۔گردیزی خاندان کے رکیں بھی آئے اور شہر کے لوگ بھی آپ کا ذکر مودبانہ رنگ میں کرتے تھے حضرت مولوی نور الدین صاحب کے پاس آکر دوا پوچھنے والوں کا تو ایک لگا رہتا تھا۔جمگھٹا سا ملتان میں حضور بزرگوں کے مزاروں پر بھی تشریف لے گئے تھے۔اور مدرسہ اسلامیہ کے ہال میں تقریر بھی فرمائی۔آپ نے ۲۷ دسمبر ۱۸۹۷ء کو سالانہ جلسہ سالانہ جلسه ۱۸۹۷ء پر ایمان افروز تقریر قادیان میں ایک عظیم الشان تقریر فرمائی جو معمول نکات و معارف سے پر تھی۔اور نہایت درجہ وجد انگیز تھی۔تقریر کے دوران میں آپ نے خدا کی قسم کھا کر فرمایا۔میں خداتعالی کو گواہ رکھ کر اور اس واحد لا شریک کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے اپنی ان امراض کا جو مجھے لاحق ہیں۔کوئی علاج نہیں پایا۔جب تک کہ خدا تعالی کے خاص فضل سے میں نے امام کو شناخت نہیں کیا۔میں یہ صاف صاف کہتا ہوں کہ اگر میری جیسی مرض کا علاج نہ ملتا تو میں ہلاک ہو جاتا۔۔۔میں اپنے جیسی استعداد اور مرتبہ کے آدمیوں کو تو کھول کھول کر بتلا دیتا ہوں کہ میں نے اپنے مرض کا تو خطا نہ کرنے والا علاج پالیا ہے اور وہ بھی تریاق موجود ہے جو تم میں بیٹھا ہے اور جو اسی وعدہ الہی کے موافق آیا ہے جو اس نے وعد الله الذین امنوا میں فرمایا ہے کوئی معجزہ کوئی آیت کوئی دلیل میرے لئے ضروری نہیں کیونکہ میں نے اپنی مرض پر اس تریاق کا تجربہ کر کے دیکھ لیا ہے۔۔۔۔میں پھر اس مسجد میں جو خد اتعالیٰ کا گھر کہلاتا ہے اس کے سامنے یہ شہادت دیتا ہوں میرے جیسا بیمار خطرناک اور تندرستی میں بے نظیر عمر کا ایک بہت بڑا حصہ گزار چکا ہوں جس کا ایک ٹکٹ بھی واپس نہیں آسکتا۔یہاں اگر اپنے مرض کا علاج نہیں پاتا ہوں تو کیوں بیٹھا ہوں میرے جیسا پیشہ ور انسان آسائش کے سامان کہیں سے حاصل کر سکتا ہے۔مگر بتلاؤ تو سہی کہ یہاں کس قدر سامان مل سکتے ہیں۔ہمارے بھائی سوچ سکتے ہیں کہ ہم یہاں رہ کر کس قدر امداد اپنی کر سکتے ہیں پھر بایں ہمہ جو میں یہاں پڑا ہوں کیا پاگل اور مجنوں ہوں؟ اگر کوئی دق مجھے اندر ہی اندر نہ کھا رہی تھی تو میں خود مجنونوں کا علاج کرنے والا ایک مجنون کے پاس ہی وہ تریاق پاتا۔سوچو !! اور پھر سوچو !!! ان درد بھرے الفاظ ہی سے جو آپ کی تقریر سے بطور نمونہ لکھے گئے ہیں اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پوری تقریر کس شان کی ہوگی ؟ مکمل تقریر حضرت شیخ یعقوب علی صاحب تراب کی مرتبہ رپورٹ