تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 160 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 160

تاریخ احمدیت جلد ۳ 156 آغاز ہجرت سے حضرت مسیح موعود کے وصال مبارک تک فرمائی تھی بلکہ حق یہ ہے آپ جلسہ کے ماڈریٹر حضرات میں سے تھے علاوہ ازیں ۲۷/ دسمبر ۱۸۹۶ء کا وہ یادگار اجلاس جس میں مولوی شاء اللہ صاحب اور بعض دوسرے نمائندوں کی تقریروں کے علاوہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی زبان سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مضمون سنا گیا آپ ہی کی صدارت میں ہوا تھا۔اس اجلاس کی کارروائی ٹھیک سوا دس بجے شروع ہوئی اور اس کا آغاز بھی حضرت مولوی صاحب کی ایک مختصر مگر نہایت درجہ لطیف و پر معنی تقریر سے ہوا۔اور خاتمہ بھی آپ کی تقریر سے انجمن حمایت اسلام کے سالانہ جلسہ پر لیکچر حسب معمول آپ نے ۱۸۹۷ء کے سالانہ جلسہ (انجمن حمایت اسلام لاہور) میں بھی شمولیت فرمائی اور معرکتہ الاراء لیکچر دیا۔جس کا جلسہ کی روئیداد میں ذکر موجود ہے آپ کی تقریر کے وقت حاضرین کی تعداد بہت زیادہ تھی۔چنانچہ لکھا کہ ۳۰/ جنوری ۱۸۹۷ء کے انجمن حمایت اسلام کے جلسہ میں بعد ادائے نماز ظہر مولوی حکیم نور الدین صاحب بھیروی کا لیکچر ہوا۔اس دن مولوی صاحب کے لیکچر پر بہت بڑا مجمع تھا اس دفعہ مولوی صاحب نے بھی اپنی تقریر کو زیادہ تر انجمن کے حالات تک محدود رکھا اور بالکل مذہبی باتوں میں نہیں لگے رہے۔مولوی صاحب تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ تقریر کرتے رہے۔" ڈگلس کی عدالت میں گواہی پادری مارٹن کلارک نے حضرت مسیح موعود کے خلاف ڈگلس کی عدالت میں اقدام قتل کا جو مقدمہ دائر کیا تھا اس مقدمہ میں عبد الحمید نے گواہی دی تھی کہ مولوی نور الدین صاحب مجھے پڑھاتے تھے پادری مارٹن نے اپنے عدالتی بیان میں کہا کہ عبد الحمید نے ایک خط مولوی نورالدین صاحب کو بیاس سے بھیجا تھا تا عبد الحمید کی سکونت کا مولوی صاحب کو بھی پتہ لگے جس سے شبہ پڑتا ہے کہ سازش قتل میں حضرت مولوی صاحب بھی شامل ہیں۔۔بنابریں حضرت مولوی صاحب عدالت میں بلائے گئے۔چنانچہ آپ نے ۱۳ / اگست ۱۸۹۷ء کو بیان دیا - دیا ۱۸۹۷ء کے واقعات میں سے ایک سفر ملتان بھی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سفر ملتان رفاقت میں آپ کو اکتوبر ۱۸۹۷ء میں پیش آیا۔راستہ میں اسٹیشنوں پر بہت سے لوگ ا ملاقات کے لئے حاضر ہوئے جن میں غیر احمدی بھی تھے اور ملتان میں تو استقبال کا بڑا عمدہ انتظام تھا۔حضور کے مخلص فدائی مولوی بدر الدین ہیڈ ماسٹر ہائی سکول نے سکول کے طلبہ کو دو رویہ قطار میں مختلف قطعات دے کر کھڑا کر رکھا تھا۔جب حضور گذرے تو طلبہ دعائیہ کلمات السلام علیکم اور نظمیں