تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 150
I تاریخ احمدیت جلد ۳ 146 آغاز ہجرت سے حضرت مسیح موعود کے وصال مبارک تک چوتھا باب آغاز ہجرت سے لیکر حضرت مسیح موعود کے وصال مبارک تک اپریل ۱۸۹۳ء تا ۲۶ - مئی ۱۹۰۸ء بمطابق ۱۳۱۰ھ تا ۱۳۲۶ھ) ہجرت کے بعد کئی لوگوں نے حضرت ہجرت کی مخالفت اور آپ کا اثبات و استقلال مولوی صاحب کو تحریک کی کہ وہ مہاراجہ کے شاہی طبیب رہے ہیں اور ویسے بھی علم و فضل میں آپ کا مقام بہت بلند ہے اس لئے آپ قادیان کی بجائے لاہو ر یا امرت سر میں شفاخانہ کھول لیں۔خلقت دیوانہ وار آپ کے پاس پہنچ جائے گی مگر آپ نے ان بڑے بڑے شہروں کے مقابل قادیان جیسے گمنام گاؤں کو ترجیح دی۔اور اپنے آقاو مرشد کی خدمت میں دھونی رما کر بیٹھ گئے۔اور جس طرح اول المبایعین کی سعادت حاصل کی تھی اول المہاجرین کا شرف بھی پالیا - چنانچہ حضرت مسیح موعود اپنے خط ( بنام نواب محمد علی خاں مالیر کوٹلہ) میں آپ کے اس عظیم الشان ایثار و قربانی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔بیچاره نورالدین جو دنیا کو عموماً لات مار کر اس جنگل قادیان میں آبیٹھا ہے بیشک قابل نمونہ ہے۔بہتیری تحریکیں ہو ئیں کہ آپ لاہور میں رہیں اور امرت سر میں رہیں دنیاوی فائدہ طبابت کی رو سے بہت ہو گا۔مگر کسی کی بات انہوں نے قبول نہیں فرمائی۔میں یقیناً سمجھتا ہوں کہ انہوں نے بچی تو بہ کر کے دین کو دنیا پر مقدم رکھ لیا ہے۔" ہجرت سے نہ صرف مولوی صاحب کی دلی تمنا بر آئی بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی برسوں قبل کی یہ دعا قبول ہوئی کہ مولوی صاحب اور آپ دونوں کی بقیہ زندگی ایک جگہ بسر ہو۔کچھ عرصہ الدار میں رہائش کے بعد آپ نے ڈھاب کے کنارے الگ مکان بنالیا اور ایک چھوٹی سی کوٹھری میں اپنا مطب قائم کر لیا۔