تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 148
تاریخ احمد بیت - جلد ۳ 144 خوانی سنگھ کے اتالیق تھے۔اپنے میل جول کے زمانہ میں حضرت خلیفہ اول نے موجودہ مہاراجہ کے والد اور اس کے بھائی کو قرآن شریف پڑھانا شروع کیا راجہ رام سنگھ نے جو چھوٹا بھائی تھا قریبا سارا قرآن شریف ترجمہ سے ختم کر لیا۔مگر ان کے بھائی نے جو موجودہ راجہ کے والد تھے صرف ایک حصہ پڑھا۔نتیجہ یہ ہوا کہ رام سنگھ دل سے مسلمان ہو گئے یہ نوجوان شہزادہ بڑی جنگی روح رکھتا تھا اور اس کے بڑے بھائی مہاراجہ پرتاب سنگھ نے اس کو فوج کا کمانڈر انچیف مقرر کیا تھا۔تے جس عرصہ میں اس نے کشمیر کی سخت وادیوں میں قلعے بنادیئے تھے اور چترال اور گلگت کی طرف کے مسلمان حکمرانوں سے تعلقات پیدا کر لئے تھے۔اس کا منشایہ تھا کہ طاقت پکڑ کر انگریزوں سے بغاوت کرے اور کشمیر کو آزاد کرائے مہاراجہ پرتاب سنگھ کو اس کی اسلام کی طرف رغبت کا علم ہو گیا۔کچھ اس کے قلعہ بنانے کی مہم نے انگریزوں کو ہو شیار کر دیا جس پر مقامی روایات کے مطابق انگریزوں نے رام سنگھ کو زہر دے کر مروا دیا۔مہاراجہ پرتاب سنگھ نے کچھ انگریزوں کے ڈر کے مارے اور کچھ اس ڈر سے کہ رام سنگھ اور اس کے بھائی مسلمان نہ ہو جائیں حضرت مولوی نور الدین صاحب کو جو اس کے شاہی طبیب تھے اور بعد میں جماعت احمدیہ کے پہلے خلیفہ بنے۔اڑتالیس گھنٹے کا نوٹس دے کر ریاست بد ر کر دیا۔" حاشیہ در حاشیه (i) یہ ایک عرصہ قبل کی تحریر ہے اس میں " موجودہ مہاراجہ " سے مراد راجہ ہری سنگھ صاحب ہیں جو اس وقت حکمران تھے اور جن کے والد امر سنگھ تھے۔راجہ ہری سنگھ مہاراجہ پرتاب سنگھ کی موت کے بعد ۱۹۲۵ء میں گدی پر میٹھے ۱۹۴۷ء میں پاک و ہند کی آزادی کے ساتھ ڈوگرہ شاہی حکومت کا تختہ الٹ گیا۔کچھ حصہ مجاہدین نے آزاد کرالیا اور باقی بھارت کے قبضہ میں ہے۔(ii) اخبار " چودھویں صدی " (راولپنڈی ۲۳ / نومبر ۱۸۹۵ء صفحہ اکالم ۲) نے ان کے بارے میں یہ خبر شائع کی تھی "سر راجہ رام سنگھیہ کے۔سی۔بی کمانڈر انچیف افواج کشمیر کی انصاف پسندی کی تعریف کے بغیر ہم نہیں رہ سکتے کہ جناب ممدوح نے منشی غلام محمد ڈپٹی انسپکٹر کو اس کے عمدہ پر بحال فرما دیا ہے۔کوئی شبہ نہیں کہ یہ ایک نہایت ہی انصاف کا کام کیا گیا ہے۔" مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر ۲ صفحہ ۱۲۳۔-۸۲ حضرت امام الترمان کی یہ آہ خالی نہیں گئی بلکہ اس کے نتیجہ میں مسلمانان ہند نے ریاستی مسلمانوں پر مظالم کے خلاف بڑی جرات سے آواز اٹھانا شروع کر دی۔اور اخبار ” چودھویں صدی " راولپنڈی میں ۱۸۹۵ء سے با قاعدہ ایک سلسلہ مضامین جار کی ہوا۔حتی کہ آپ ہی کے تائب اور خلیفہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کے ذریعہ یہ آواز " آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی شکل میں ایک موثر ترین تحریک کی صورت پکڑ گئی۔جس نے ڈوگرہ راج کی جڑیں کھوکھلی کر دیں اور مسلمانوں کو ان کے بہت سے پامال شدہ حقوق پھر سے واپس دلائے۔اور ان کی آزادی کی بنیادیں رکھ دیں۔مگر اس کی تفصیل اگلے حصہ میں آئے گی یہاں اسی قدر کافی ہے کہ تحریک آزادی کشمیر میں بے شک اسباب ظاہری بہت کام کرتے نظر آتے ہیں مگریس پر دہ باطنی و حقیقی سبب آپ کی مہاراجہ کے خلاف بددعا تھی جس نے جناب الہی کے فضل کو جذب کیا اور مسلمانان کشمیر پھر سے زندگی کا سانس لینے کے قابل ہوئے اور ہو رہے ہیں اور وہ دن دور نہیں جب کہ حضرت حکیم مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اصبح اول اور دوسرے مسلمانوں پر کئے جانے والے مظالم رنگ لائیں گے اور کشمیر کی وہ وادی جو خطہ جنت ہونے کے باوجود آج آگ اور خون کا نظر پیش کر رہی ہے سچ سچ دنیا کی سطح پر بہشت بریں کا نمونہ پیش کرے گی۔انشاء اللہ و ماذلک علی اللہ عزیز ۸۳- مرقاۃ الیقین صفحہ ۱۶۷-۱۶۹۔۸۴۔حضرت خلیفہ اول کی ایک تقریر سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک لاکھ پچانوے ہزار کے علاوہ آپ پر پانچ ہزار روپیہ ایک دوسرے شخص کا بھی قرض تھا الحمام ۲۱ - ۲۸ فروری ۱۹۱۵ء صفحه ۲-۳) ۸۵۔اصحاب احمد جلد دوم صفحه ۴۸۵ ۸۶ روایت حکیم محمد عمر صاحب