تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 147 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 147

تاریخ احمد بیت جلد ۳ 143 حواشی آپ درس و تدریس میں بیماروں کو دیکھنے میں لوگوں کو امر بالمعروف ونہی عن المنکر کرنے میں اور اپنی کتب کے مطالعہ کرنے میں مصروف اپنی نشست گاہ میں کھلا دربار لگائے بیٹھے رہے تھے جہاں لوگ بے تکلف آتے جاتے رہتے تھے ایسا ہی اس دن اور اس سے دوسرے دن جو تیاری سفر کا دن تھا آپ حسب معمول بیٹھے رہے گو یا علیحدگی ملازمت کا واقعہ ہوا ہی نہیں یا ہوا ہے تو روز مرہ کی باتوں میں سے ایک معمولی سی بات ہے " (حیات نور الدین صفحہ ۱۵۳) ۲۸۔انسائیکلو پیڈیا بر شیکا زیر لفظ "کشمیر " KASHMIR)۔صحیفہ زریں صفحہ ے۔۷۰ کتاب رئیس قادیان جلد دوم صفحہ ۱۰۳ ۱۰۴ر نبیر سنگھ کی وفات کے وقت حضرت خلیفہ اول پونچھ میں تھے (الحکم ۱۰ / فروری ۱۹۰۴ء صفحہ ا کا لم۔ای ولادت ۱۸۵۰ء وفات ۱۹۲۵ ء انسائیکلو پیڈیا برٹنیک زیر لفظ "کشمیر“۔-2 ۷۲- رئیس قادیان جلد دوم صفحہ ۱۰۴ د صحیفہ زریں صفحہے۔اخبار چودھویں صدی ۲۳/ جولائی ۱۸۹۵ء صفحہ ۶ کالم۔۷۳۔تاریخ اقوام پونچھ صفحه ۶۸۰ ( از مولانا محمد دین فوق) الفضل ۱۴ فروری ۱۹۳۲ء صفحہ ۷ کالم ۱۲ خطبہ جمعہ سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی۔مرقاة الیقین صفحہ ۱۲۶۔حضرت مولوی صاحب نے راجہ سورج کول سے ذاتی مخاصمت کا ایک واقعہ درج کرنے کے بعد یہ بھی لکھا ہے۔کہ لالہ باگ رام نے آپ سے کھلم کھلا یہ بھی کہدیا تھا کہ اگر آپ استعفیٰ دیدیں تو اس میں بڑے مصالح ہیں آپ نے ان سے فرمایا کہ بنے ہوئے روزگار کو خود چھوڑنا ہماری شریعت میں پسند نہیں کیا گیا الاقامة في ما اقام الله ضروری ہے لیکن آخر ایک روز علیحدگی کا پروانہ آگیا۔۷۔رسالہ حکیم حاذق ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۶۔ہ ہے۔مہاراجہ پونچھ صاحب کو دراصل امر سنگھ صاحب سے دشمنی تھی جن کے ساتھ حضرت مولوی صاحب کے مراسم تھے۔نیز اس مقدمہ میں ان کے ایک وزیر کاہاتھ بھی معلوم ہوتا ہے۔کیونکہ اس نے ایک دفعہ آپ کو مہاراجہ کے علاج کرنے پر یہ دھمکی دی تھی کہ " آپ یہاں علاج کرنے آئے ہیں یا ہمارے ولی عہد کو حکومت سکھانے آئے ہیں۔آپ صرف دو او غیرہ بتادیا کریں اور حکومت کرنی نہ سکھائیں ورنہ آپ کو بڑی تکلیف اٹھانی پڑے گی۔یہ لوگ اگر ایسے ہو جائیں جیسا آپ چاہتے ہیں تو ہم لوگ روٹی کہاں سے کھائیں ؟ " مرقاۃ الیقین صفحہ ۱۵۳۔ے۔مہاراجہ رنبیر سنگھ اور مہاراجہ پرتاب سنگھ کے زمانہ میں کشمیر کے حالات پر ہندوؤں یا سکھوں کی طرف سے جو کرتا ہیں راقم الحروف نے دیکھی ہیں ان میں کہیں حضرت مولوی صاحب کا تذکرہ موجود نہیں ہے جس سے صاف تعصب اور جنبہ داری کی سا سے صاف تو اس ذہنیت کا پتہ چلتا ہے۔جو آپ کے خلاف غیر مسلم عناصر میں کام کر رہی تھی۔9 اخبار چودھویں صدی راولپنڈی ۲۳ / جولائی ۱۸۹۵ء صفحہ ۵-۶- ۸۰۔یہ واقعہ آج تک ایک سربستہ راز تھا جس پر خدا جانے کب تک پردہ پڑا رہتا۔مگراللہ تعالی جزائے خیر دے جناب مولوی محمد یعقوب صاحب ظاہر فاضل کو کہ انہوں نے حضرت خلفیتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ایک غیر مطبوعہ تحریر سے ایک اہم اقتباس مولف ہذا کو بھجوا دیا ہے جس میں حضور نے اپنی زبان مبارک سے تاریخ کے اس گمشدہ ورق پر روشنی ڈالی ہے۔جناب مولانا فرماتے ہیں۔حضرت خلیفہ اول کو مہاراجہ پرتاب سنگھ نے جموں سے اڑتالیس گھنٹہ کے اندراندرا خراج کا جو ظالمانہ حکم دیا تھا اس کی وجوہ کے متعلق سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ایک نہایت قیمتی روایت میرے پاس محفوظ ہے جسے تاریخ احمدیت میں اندراج کے لئے میں آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں یہ بات ہمارے سلسلہ کے لٹریچر میں کمیں شائع نہیں ہوئی مگر میں نے خود حضور کی زبان مبارک سے یہ بات سنی ہے اور میں علی وجہ البصیرت اس کی شہادت دیتا ہوں۔حضور نے فرمایا :- حضرت خلیفہ اول کشمیر کے مہاراجہ رنبیر سنگھ کے شاہی طبیب تھے۔اور موجودہ مہاراجہ کشمیر کے لیے والد اور ان کے بھائی رام