تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 146
142 تاریخ احمد بیت - جلد ۳ ۳۹۔مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر ۲ صفحہ ۳۸۔۰۔الحکم ۲۴/ جون ۱۹۰۷ء صفحہ ۱ کالم ۲۔ا۔قادیان کی لائبریری میں اس کا تیسرا ایڈیشن جو ۱۹۰۹ ء کا ہے اور نامی پریس میرٹھ کا چھپا ہوا ہے راقم الحروف نے دیکھا ہے۔۲۲ فتح اسلام صفحہ ۶۳ - ۷۴ حاشیه (طبع اول) ۴۳ ذکر حبیب از مفتی محمد صادق صاحب صفحه ۲۴ الحکم سے جولائی ۱۹۰۹ء صفحہ ۱۳ کالم ۲۔۴۲۵۔بحوالہ اشاعۃ السنہ جلد ۱۳ نمبر ا صفحه ۱۴ ۱۵ حیات احمد جلد سوم صفحہ ۶۷۔اشاعۃ السنہ جلد ۱۳ نمبر صفحہ ۶ او صفحہ ۳۲۔۴۷۔اشاعۃ السنہ جلد ۱۳ نمبر صفحہ ۱۶و ۳۲ ۴۸۔حیات احمد چہارم صفحہ ۷۴۔۴۹۔حیات احمد یہ سوئم از ۱۸۸۹ء تا ۱۸۹۲ء صفحہ ۷۴۔اس مجلس کے بعض حاضرین مولوی محمد عبد اللہ صاحب پر و فیسر عربی کالج۔سید فقیر الدین رئیس و آنریری اسٹنٹ کمشنر لاہور۔شیخ خدا بخش صاحب حج اشاعۃ السنہ جلد ۱۳ نمبر صفحہ ۱۷۔معلوم ہوتا ہے کہ مولوی عبد الرحمان صاحب لکھو کے بھی بعد ازاں اس مجلس میں پہنچ گئے تھے۔۵۰ اشاعتہ السنہ جلد ۱۳ صفحہ ۳۴ سے معلوم ہوتا ہے۔کہ اس کی روداد ضمیمہ ”پنجاب گزٹ " (۲۵/ اپریل ۱۸۹۱ء) میں بھی چھپی تھی۔-۵۱ مرزا امان اللہ صاحب۔منشی عبد الحق صاحب ابو اللی بخش صاحب حافظ محمد یوسف صاحب - منشی محمد یعقوب صاحب یہ سب حضرات اہلحدیث تھے اور اس تبادلہ خیالات کے محرک (مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر ۲ صفحہ ۹۸) ۵۲ اشاعۃ السنہ جلد ۱۳ صفحہ ۳۲ - ۳۳۔۵۳ حیات احمد سوم از ۱۸۸۹ء تا ۱۸۹۳ء صفحه ۷۴ - ۵۴ اشاعۃ السنہ جلد ۱۳ نمبر صفحہ ۳۳۔۵۵- حیات احمد سوم صفحه ۲۰۱ ۲۰۲ مکتوبات احمد یہ انجم نمبر ۲ صفحه ۱۰۴ -۵۲ آسمانی فیصلہ صفحہ ۷ الطبع اول۔تبلیغ رسالت جلد دوم صفحہ۔۵۷- تبلیغ رسالت جلد دوم حاشیه صفحه ۱۸۔-۵۸ تبلیغ رسالت جلد دوم حاشیہ صفحہ ۱۸۔۵۹ مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر ۲ صفحہ ۱۰۰۔-10 حیات احمد جلد پنجم صفحہ ۱۱۸-۱۹ حاشیہ روایت خلیفہ نورالدین صاحب جمونی) آسمانی فیصلہ طبع اول صفحہ ۳۱۔حیات احمد جلد سوم صفحه ۲۰۹ (۱۸۸۹ء تا ۱۸۹۳ء) تبلیغ رسالت جلد دوم صفحہ ۷۳۔تبلیغ رسالت جلد دوم صفحہ !! آئینہ کمالات اسلام صفحه ۲۰۶ ( طبع اول) آئینہ کمالات اسلام صفحه ۱۲ (ح) طبع اول ۱۷ حضرت مفتی محمد صادق صاحب کا بیان ہے کہ "ریاست کی ملازمت سے جب آپ علیحدہ ہوئے میں اس وقت آپ کی خدمت میں موجود تھا کیونکہ میں بھی اس وقت جنوں ہائی سکول میں ٹیچر تھا۔ہزار پندرہ سو روپے ماہوار کی آپ کی آمدنی تھی اور خرچ جو قریباً سارا ہی فی سبیل اللہ ہو تا تھاوہ اس کے برابر یا اس سے زیادہ ہو تا تھا کبھی آپ کی عادت نہ تھی کہ روپیہ پیسہ جمع رکھیں۔اس حالت میں ملازمت ریاست سے اچانک علیحدگی کے باوجود نہ آپ کے چہرے پر کوئی ملال تھا نہ اس کا کوئی احساس تھا جیسا روز مرہ │