تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 145 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 145

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 141 حواشی پاس کر لیا۔مولوی نور الدین صاحب نے اپنے چند دوستوں کو ان کی خبرگیری و حفاظت کی اطلاع دیدی تھی۔اور خود بھی جب کبھی لاہور آتے تو ان سے ملا کرتے تھے چنانچہ ایک دفعہ آپ کو قادیان بھی لے گئے اور ایک مرتبہ لدھیانہ میں بھی جہاں مرزا غلام احمد قیام پزیر تھے پونچھ سے آتے ہی آپ مولوی صاحب سے ملے ان کے مشورہ کے مطابق آپ علی گڑھ چلے گئے۔مولوی صاحب نے سرسید احمد خاں مرحوم کے نام بھی ایک خط لکھ دیا تھا۔وہ بڑی شفقت سے پیش آئے علی گڑھ کے اسلامیہ دار العلوم میں آپ فسٹ ائیر میں داخل ہو گئے اور ہر امتحان میں با تعریف پاس ہو کر و ظائف لیتے رہے۔بی۔اے پاس کرنے کے بعد وکال کا امتحان (ایل ایل بی) بھی پاس کر لیا اور علی گڑھ ہی میں وکالت شروع کر دی اور سرسید احمد خان مرحوم کے ارشاد کے مطابق علی گڑھ کو صرف اپنا گھر ہی نہیں بلکہ اپنا طن بنایا۔اختلاف رائے یا اختلاف عقائد کی وجہ سے آپ مرزا صاحب یا حکیم صاحب کے ذاتی اوصاف کے خلاف نہیں ہیں آپ فرماتے ہیں مذہبی پہلو کو نظر انداز کر کے ان دونوں بزرگوں کے صرف انسانی پہلو کو سامنے رکھ کر اگر کوئی ان کی نسبت رائے قائم کرے تو وہ ان کو ہد روان بنی نوع انسان کی صف اول میں جگہ دینے پر مجبور ہو گا۔کسی مذہبی اختلاف کی وجہ سے ان کے انسانی اوصاف پر مٹی ڈال دینا انصاف اور انسانیت کے قطعا خلاف ہے مجھ پر ابتداء میں مولوی نور الدین صاحب مرحوم کی فلسفیانہ باتوں کا بڑا اثر پڑا۔یہاں تک کہ رفتہ رفتہ اسلام کے اعلیٰ اصولوں نے میرے دل میں گھر کر لیا۔اور کو طالب علمی کے زمانہ میں اور وہ بھی صرف تین ماہ مرزا صاحب کی صحبت میں رہنے کا اتفاق ہو الیکن میرے ایمان اور اعتقاد کی پختگی کے لئے یہ تین ماہ بہت مفید ثابت ہوئے۔" ( تاریخ اقوام پونچھه از مولانا محمد دین فوق صفحه ۶۷۸-۶۸۳ مطبوعہ ۱۹۳۶ء) ملاحظہ ہو مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر ۲ مرتبہ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی ۲۰ منشور محمدی جلد ۷ انمبر ۳ صفحہ ۲۸۔۲۱ منشور محمدی جلد ۷ انمبر ۱۳ صفحه ۳۰ ۲۲ منشور محمدی صفحه ۱۵۴۔(اس مضمون کی قسطیں منشور محمدی کے مندرجہ ذیل پرچوں میں ملاحظہ ہوں جلد کے انمبر ۳ صفحہ ۶۸۔جلد انمبر صفحہ ۱۰۱۔جلد کے انمبر ۱۳۔جلد ۷ انمبر ۱۳ صفحه ۲۹۔جلد ۷ انمبر ۱۳ صفحه ۱۵۳-۱۵۶) ۲۳۔مکتوبات احمد یہ جلد پنجم۔نمبر ۲ صفحه ۵۶ ۴۔مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر ۲ صفحه ۵۰ ۲۵۔حیات احمد جلد چهارم صفحه ۱۲۱ حاشیہ - رئیس قادیان جلد اصفحه ۸۲ ۸۳ ابو القاسم دلاوری) ۲۶۔یہ میں اس لئے کہتا ہوں کہ حضور نے حضرت مولوی صاحب کو ۵/ جنوری ۸۸ ء کے خط میں پہلے سے یہ اطلاع دے دی تھی کہ آپ ۷ / جنوری ۱۸۸۸ء کو یہاں سے روانہ ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر ۲ صفحہ ۵۰۔۲۷۔کلام امیر صفحه ۹۵ کالم ۲۔۲۸ مرقاۃ الیقین صفحہ ۱۹۲۔۲۹۔نقل مطابق اصل ۳۰ مکتوبات احمد یہ جلد باشیم نمبر ۲ صفحه ۵۰ تا ۵۲ - ۳۱۔کلام امیر صفحہ ۹۵ کالم ۱-۲ ۳۲۔حیات احمد جلد سوم صفحه ۱۲-۱۵۔- الحکم ۱۰/ نوری ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۳ کالم ہے۔احکم ۲۸ / مئی ۱۹۱۰ء صفحہ ۵ کالم ۲۔۳۔۳۵۔شمعید الاذہان جلدے نمبر صفحہ ۷ ۴۷۔ایضا کلام امیر صفحہ ۲۵ کالم ۲۔۔الحکم ۳۱/ اگست ۱۹۰۷ء صفحہ ۳ کالم۔الفضل ۲۸ فروری ۱۹۳۱ء صفحہ ۲۔۳ - التحام ۲۴ / جون ۱۹۰۱ء صفحہ ا کالم ۲۔