تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 139
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 135 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک دونگا۔اس نے یہ شرط منظور کرلی اور یہ ٹھیکہ دے دیا۔اب یہ عجیب بات ہوئی کہ اس کے منافع کی رقم بالکل قرض کی رقم کے برابر تھی۔کہتے ہیں کہ وہ ہندو ٹھیکیدار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں قادیان آیا اور حضرت مولوی نور الدین صاحب کی خدمت میں یہ روپیہ پیش کیا حضرت مولوی صاحب نے یہ روپیہ خود تو نہ لیا اور قرض خواہ کا نام لے کر اسے بتایا کہ اسے میری طرف سے ادائیگی کر دی جائے۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔اگلے سال وہ شخص پھر آیا اور اس سے کچھ زیادہ رقم پیش کی۔حضرت خلیفہ اول نے پوچھا یہ کیسی رقم ہے؟ اس کے بتانے پر آپ نے فرمایا۔لے جاؤ اس میں ہمارا کوئی حق نہیں اس نے بہت اصرار کیا مگر آپ نہ مانے۔آخر اس نے کہا کہ آپ اپنے لئے نہیں تو کم سے کم میرے لئے یہ رقم قبول کرلیں۔کیونکہ راجہ صاحب آئندہ مجھے ٹھیکہ نہیں دیں گے آپ نے فرمایا بہر حال یہ رقم تو میں لینے کا نہیں البتہ راجہ صاحب کے نام سفارشی چھٹی لکھ دیتا ہوں چنانچہ آپ نے ایک چٹھی لکھ دی اور وہ چلا گیا۔ریاست سے واپس اپنے وطن بھیرہ تشریف لے گئے۔جہاں آپ کا ارادہ ریاست سے بھیرہ ہوا کہ بڑے وسیع پیمانے پر ایک شفا خانہ ہو اور ایک عالی شان مکان تعمیر کیا AY جائے۔چنانچہ آپ نے مکان کی عمارت زور شور سے شروع کر دادی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دو نایاب خطوط قیام بھیرہ کے دوران حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دو خط لکھے جو آج تک سلسلہ کے لٹریچر میں نہیں آئے۔پہلاخط : مخدومی د مکرمی حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔یقین که آن مکرم بخیر و عافیت بھیرہ میں پہنچ گئے ہوں گے میں امید رکھتا ہوں کہ خدا تعالی بہر حال آپ سے بہتر معاملہ کرے گا۔میں نے کتنی دفعہ جو توجہ کی تو کوئی مکروہ امر میرے پر ظاہر نہیں ہوا۔بشارت کے امور ظاہر ہوتے رہے اور دو دفعہ خدا تعالی کی طرف سے یہ الہام ہوا۔انى معكما اسمع وادی۔ایک دفعہ دیکھا گیا کہ گویا ایک فرشتہ ہے اس نے ایک کاغذ پر مہر لگا دی اور وہ مہر دائرہ کی شکل پر تھی۔اس کے کنارہ پر محیط کی طرف اعلیٰ کے قریب لکھا تھا۔نور دین اور درمیان یہ عبارت تھی۔ازواج مطہرہ - میری دانست میں ازواج دوستوں اور رفیقوں کو بھی کہتے ہیں اس کے یہ معنی ہوں گے کہ نور الدین خالص دوستوں میں سے ہیں کیونکہ اسی رات اس سے پہلے میں نے ایک خواب دیکھا کہ فرشتہ نظر آیا۔وہ کہتا ہے کہ تمہاری جماعت کے لوگ پھرتے جاتے ہیں فلاں