تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 138
تاریخ احمدیت۔جلد ۲۳ 134 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک حضرت مسیح موعود کا ارشاد ریاست کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جب ان مخالفانہ حالات کا علم ہوا۔تو آپ نے ریاست کو بد قسمت قرار دیا۔اور فرمایا کیا بد قسمت وہ ریاست ہے جس سے ایسے مبارک قدم نیک بخت اور بچے خیر خواہ نکالے جائیں اور معلوم نہیں کہ کیا ہونے والا ہے۔" AF AL it ریاست سے روانگی کے دن نصرت الہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قبل از میں اپنے ۱۶ / اگست ۱۸۹۱ء کے مکتوب میں دعا فرمائی تھی کہ حمایت و حفاظت الہی آپ کے شامل ہے " چنانچہ اس دعا کی قبولیت کا ایک عجیب نظارہ اس دن نظر آیا جب آپ ریاست سے جانے والے تھے۔: حضرت مولوی نور الدین صاحب نصرت الہی کے اس واقعہ کی تفصیل میں تحریر فرماتے ہیں : جموں میں حاکم نام ایک ہندو پنساری تھا وہ مجھ سے ہمیشہ نصیحتا کہا کرتا تھا کہ ہر مہینہ میں ایک سو روپیہ آپ پس انداز کر لیا کریں۔یہاں مشکلات پیش آجاتی ہیں میں ہمیشہ یہی کہدیا کرتا ایسے خیالات کرنا اللہ تعالیٰ پر بد ظنی ہے۔ہم پر انشاء اللہ تعالی کبھی مشکلات نہ آئیں گے جس دن میں وہاں سے علیحدہ ہوا ہوں اس دن وہ میرے پاس آیا اور مجھ سے کہا کہ آج شاید آپ کو میری نصیحت یاد آئی ہو گی۔میں نے کہا میں تمہاری نصیحت کو جیسا پہلے حقارت سے دیکھتا تھا آج بھی ویسا ہی حقارت سے دیکھتا ہوں ابھی وہ مجھ سے باتیں ہی کر رہا تھا کہ خزانہ سے چار سو اسی روپیہ میرے پاس آئے کہ یہ آپ کے ان دنوں کی تنخواہ ہے اس پنساری نے افسروں کو گالی دے کر کہا کہ کیا نور دین تم پر نائش تھوڑا ہی کرنے لگا تھا ابھی وہ اپنے غصہ کو فرو نہ کرنے پایا تھا۔کہ ایک رانی صاحبہ نے میرے پاس بہت سا رو پید بھجوایا اور کہا کہ اس وقت ہمارے پاس اس سے زیادہ روپیہ نہ تھا یہ ہمارے جیب خرچ کا روپیہ ہے جس قدر اس وقت موجود تھا سب کا سب حاضر خدمت ہے۔" حضرت مولوی صاحب کے ذمہ کشمیر میں ایک لاکھ پچانوے ہزار قرض تھا اس کی ادائیگی کا بھی خارق عادت رنگ میں خدائی سامان ہوا۔کشمیر سے جانے کے بعد پہلی بار آپ نے قرض خواہ کو صرف پانچ روپے کی قسط روانہ فرمائی۔جس پر قرض خواہ نے لکھا۔کہ آپ نے مجھ سے تمسخر کیا ہے۔مگر آپ نے جواب دیا کہ اس وقت میرے پاس اتنی ہی رقم تھی۔جو میں نے روانہ کر دی۔قرض آپ کا میرے ذمہ ہے اور میں ہی اسے ادا کرونگا۔آپ فکر نہ کریں " اس واقعہ کے بعد یہ ہوا کہ راجہ امر سنگھ صاحب سے ایک ہندو چیل کا ٹھیکہ لینے کے لئے آیا تو راجہ صاحب نے کہا اگر تم اس ٹھیکہ کے منافع کی نصف رقم حضرت مولوی نور الدین صاحب کو دینے کے لئے تیار ہو تو میں یہ ٹھیکہ تمہیں دلا ور ADI