تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 126
ت جلد ۳ 122 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک دعائے استخارہ اللهم انی استخيرك بعلمك و استقدرك بقدرتك فانك تعلم ولا اعلم وتقدر ولا اقدر وانت علام الغيوب - اللهم ان كنت تعلم ان بیعتی بغلام احمد خير لي في دینی و دنیائی و عاقبه امری و عاجله فقدر لي ثم بارک لى فيه اللهم وان كنت تعلم ان بیعتی به شر لي في دینی و دنیائی و عاقبه امری و عاجله فاصرفه عني واصرفني عنه و قدر لي الخير حيث ما شئت ثم بارك لي فيه آمین - Ra اے میرے اللہ میں تیرے علم سے خیر اور تیری قدرت سے طاقت چاہتا ہوں کیونکہ تو جانتا ہے میں نہیں جانتا تو قادر ہے میں قادر نہیں ہوں۔اور تو سب فیبوں سے پوری طرح واقف ہے۔اے میرے اللہ ! اگر تیری نگاہ میں غلام احمد کی بیعت کرنا میرے دین ودنیا اور میری عاقبت اور موجودہ زندگی کے لئے بہتر ہے تو مجھے اس کی توفیق بھی دے پھر اس میں برکت بھی ڈال لیکن اگر تیرے نزدیک میری یہ بیعت میرے دین ودنیا اور موجودہ اور آئندہ زندگی کے لئے بری ہے تو مجھے اس سے اور اسے مجھ سے پھیر دے اور تیری جناب میں جہاں بھی بھلائی ہو وہ مجھے عطا کر کے میرے لئے اس میں برکت رکھ رے۔چنانچہ حضرت مولوی صاحب حضور کے ارشاد کے تحت استخارہ کر کے لدھیانہ پہنچے۔جہاں ۲۳/ مارچ ۱۸۸۹ء کو بیعت اولی ہوئی اور اول المبایعین ہونے کا شرف حاصل کیا۔حضرت مولوی صاحب فرماتے ہیں۔” نبی کو جو فراست دی جاتی ہے۔وہ دوسروں کو نہیں دی جاتی۔حضور نے جب میری بیعت لی تو میرا ہاتھ پہنچے سے پکڑا۔حالانکہ دوسروں کے ہاتھ اس طرح پکڑے جیسے مصافحہ کیا جاتا ہے۔پھر مجھ سے دیر تک بیعت لیتے رہے اور تمام شرائط بیعت کو پڑھوا کر اقرار لیا۔اس خصوصیت کا علم مجھے اس وقت نہیں ہوا۔مگر اب یہ بات کھل گئی۔" کسی شخص نے بعد ازاں حضرت خلیفہ اول سے سوال کیا کہ آپ نے حضرت مرزا صاحب کی بیعت کر کے کیا فائدہ حاصل کیا؟ جواب میں فرمایا۔دنیا سے سرد مہری۔رضا بالقضا کا ابتدا اخلاص۔فہم قرآن میں بین ترقی۔طول امل سے تنفر۔اور المنکر سے بحمد اللہ حفاظت۔فتن رجال سے بحمد اللہ حفاظت تامہ - کبر۔کسل - کذب - کفر۔جین سے امن نامہ - حضور نے جن الفاظ میں آپ سے بیعت لی تھی وہ آپ کی درخواست پر حضور نے اپنے قلم سے لکھ کر انہیں عنایت فرما دیئے تھے۔