تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 119
تاریخ احمدیت جلد ۳ 115 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک تیسرا باب فصل الحطاب کے مجاہدہ سلوک سے لیکر ہجرت قادیان تک (ابتداء ۱۸۸۶ء تا ۱۸۹۳ء بمطابق ۱۳۰۳ھ تا ۵۱۳۱۰) فصل الخطاب کی تصنیف و اشاعت حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مجاہدہ کا حکم لیکر آپ وطن آئے تو ایک ہم مکتب حافظ مل گیا جو عیسائیت سے بہت متاثر ہو چکا تھا۔آپ نے فرمایا۔اپنے پادری سے مجھے بھی ملاؤ۔چنانچہ وہ آپ کو پنڈ دادنخان کے انگریز پادری تھامس ہاول کے پاس لے گیا۔اس نے کہا میں بعد میں اعتراضات لکھ کر بھیجواروں گا۔اس پر آپ نے حافظ سے وعدہ لیا کہ جب تک پادری صاحب کے سوالات ہم تک پہنچ کر ان کے جوابات آپ کو نہ مل جائیں آپ بپتسمہ نہ لیں۔آخر پادری صاحب نے اعتراضوں کا ایک بڑا پلندہ آپ کو جموں روانہ کر دیا۔اتفاق سے انہی دنوں مہاراجہ پونچھ نے آپ کو اپنے بیٹے کے علاج کے لئے پو نچھ بلا لیا اور شہر سے الگ تھلگ مکان میں جگہ دی۔یہاں آپ کو تنہائی میسر آگئی اور آپ نے جواب لکھنا شروع کر دیا۔ادھر راجہ کا لڑکا اچھا ہوا۔ادھر آپ نے چار جلدوں میں جواب بھی مکمل کر لیا۔جواب کا نام آپ نے ایک بزرگ سید محمد غوث صاحب کی کتاب کے نام پر تفصل الخطاب " ہی رکھا۔اب اس کے چھپنے کا مرحلہ باقی تھا۔تو اس کے لئے خدا تعالیٰ نے یہ نہیں سامان کیا کہ راجہ پونچھ اور مہاراجہ جموں سے آپ کو بہت کچھ انعام و اکرام ملا۔چنانچہ آپ نے یہ ساری آمد اور فصل الخطاب کی دو جلدوں کا مسودہ طباعت کے لئے مطبع مجتبائی دہلی کے مالک (مولوی عبد الواحد صاحب کو بھیجوا دیئے۔اس طرح یہ کتاب ان کے زیر انتظام ۱۳۰۵ھ مطابق ۸۸-۱۸۸۷ ء میں چھپ کر شائع ہو گئی۔فصل الخطاب اپنی نوعیت کی نرالی اور لاجواب تصنیف تھی۔عیسائیت سے متاثر حافظ اور ان کے